Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
356 - 531
 پاس کئی مرتبہ دیکھ چکی ہوں۔ جب آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ان کاغصہ دیکھا جو ختم ہونےکانام نہیں لےرہاتھا توخودبھی خوش طبعی چھوڑکرسنجیدہ ہوگئے اور ان سےکہنے لگے:پھوپھی جان!جب رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دنیا سےپردہ فرمایا تو لوگوں کو ایک بہتی نہر پرچھوڑا پھر اس نہر کا مُنْتَظِم ایسا شخص  ہواجس نےاس میں کچھ کمی  نہ کی پھر بعدمیں آنے والےایک شخص نے اپنی سیرابی کے لئے اس سے چھوٹی نہر نکالی پھر لوگ  اپنی سیرابی کےلئےاس سے چھوٹی چھوٹی نہریں نکالتے رہے حتّٰی کہ اس بڑی نہر کو ایسا خشک کر ڈالا کہ اس میں ایک قطرہ بھی نہیں رہا،اللہعَزَّ  وَجَلَّکی قسم! اگر اس نے مجھے زندگی دی تو میں ان سب چھوٹی نہروں کو کھود کھود کر  دوبارہ اس پہلی نہر کی طرف پھیر دوں گا۔ پھوپھی جان نے کہا: کیا ایسا کرنے پر  لوگ تمہارے پاس سابقہ خُلَفا کو بُرانہیں کہتے؟آپ نےفرمایا: کون انہیں بُرا کہے گا؟میں تو بس اتنا کرتا ہوں کہ کوئی شخص میرے سامنے اپنےاوپر ہونے والےظلم کو بیان کرتاہےتومیں ظلم کرنےوالوں سے اسے اس کا حق دِلوا دیتا ہوں۔ 
دیہاتیوں کی زمین واپس دلادی:
(7218)…حضرتِ سیِّدُناسلیمان بن موسٰیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں:مجھےیہ بات پہنچی ہےکہ چند دیہاتیوں نے حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکےپاس  بنومروان کےکچھ لوگوں کےخلاف  ایک ایسی زمین کے بارے میں مقدمہ کیا جسے انہوں نے آباد کیا تھا اور ولید بن عبْدُالملک نے وہ زمین غصب کر کے اپنے خاندان کے بعض افراد کو دے دی تھی۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے  فیصلہ کرتے ہوئے کہا: رسولِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:”تمام شہراللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ملکیت  ہیں، تمام لوگ اسی  کےبندے ہیں،جس نےکسی غیرآبادزمین کوآبادکیاوہ اسی کی ملک  ہے۔“(1)چنانچہ آپ نےوہ زمین دیہاتیوں کوواپس دلادی۔
(7219)…حضرتِ سیِّدُنااِیاس بن مُعاوِیہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں:میں حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکواس ماہر کاریگرسےتشبیہ دیتاہوں  جوآلات  یعنی مددگاروں کےبغیر کام کرلیتاہے۔
بعد کےخلیفہ کو وصیت:
(7220)…حضرتِ سیِّدُناقتادہرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…دار قطنی،کتاب فی الاقضية والاحكام، فی  المرأة تقتل اذا ارتدت،۴/ ۲۵۶،حدیث:۴۴۶۰،عن عائشةرضی اللّٰہ عنھا