Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
355 - 531
نے کہا:خداعَزَّ  وَجَلَّکی قسم !ہم یہ مال واپس نہیں کریں گے حتّٰی کہ ہمارے جسموں سے سر جُدا کر دیئے جائیں، ہم اپنے آباء واجداد کی ناشکری اور اولادکو محتاج نہیں کریں گے۔حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نےفرمایا:بخدا!اگر ایسا نہ ہوتا کہ تم اُنہیں کو میرے خلاف مددگار بنالوگےجن کے لئے میں یہ حق طلب کررہاہوں تو میں تمہیں ضرور رُسوا کردیتا،تم یہاں سے نکل جاؤ ۔
گزشتہ خُلَفا کے ظلم وجبر کی مَذمَّت:
(7215)…حضرتِ سیِّدُناامام مالکعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْخَالِقبیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزنے بنواُمَیَّہ کےگزشتہ  خُلَفاکےعدل وانصاف اورظلم وجبر کاذکر کیا تو ہِشام بن عبْدُالملک کہنے لگا:بخدا!ہم تو اپنے باپ داداؤں کی بُر ائی کریں گےنہ اپنی قوم میں  اپنی عزت گھٹائیں گے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:اس سے بڑھ کر بُرائی کون سی ہو گی جسے قرآن نے بُرا کہا ہے۔
جانور پر رحم:
(7216)…حضرتِ سیِّدُناابوعثمان ثَقَفِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکابیان ہے کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کا ایک غلام تھاجوخچر پر مزدوری کرکے روزانہ ایک درہم مزدوری لاتا تھا۔ایک دن وہ دو  درہم لے کرآیا تو امیرالمؤمنین نے پوچھا:یہ کہاں سے؟اس نے کہا: آج منڈی اچھی تھی۔ آپ نے فرمایا: منڈی اچھی نہیں تھی بلکہ تم نے خچر کو تھکا دیا ہے،چلواب اسے تین دن آرام دو۔
مظلوموں کے مددگار:
(7217)…حضرتِ سیِّدُنانَوْفَل بن ابوفُراترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ بنواُمَیَّہ کےافراد فاطمہ بنْتِ مروان کولینےکےلئےمحل کے دروازے پرجایا کرتےتھے،جب حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز خلیفہ بنےتوآپ نےفرمایا:میرے علاوہ انہیں کوئی لینے  نہیں جائے گا۔چنانچہ آپ ان کی سواری کواپنے خیمےکےدروازے تک لائے پھرانہیں وہاں اُتارااوران کےلئےدوتکیے لگائےاس طرح کہ ایک کو دوسرے پر رکھا پھر  ان سے خوش طبعی کرنے لگے حالانکہ یہ آپ کے مِزاج کے خلاف تھا،آپ نےکہا: پھوپھی جان! کیا آپ نےدروازےپردربان  نہیں دیکھے؟انہوں نے جواب دیا:دیکھےہیں اوریہ دربان تم سے بہتر لوگوں کے