کی نافرمانی کرے،شیطان کوجان کر اس کی پیروی کرےاوردنیااوردنیا والوں کے ساتھ اس کی ناپائیداری دیکھ لے پھر بھی دنیا پر مطمئن رہے۔سلیمان بن عبدالملک نے کہا:اےعُمَر! تمہاری ان باتوں نے ہماری دنیا اجیرن کردی ہےپھرخلیفہ نے اپنی سواری کوایڑلگائی اورآگےچلا آیا۔حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزبھی آگے بڑھےحتّٰی کہ جب اُترے تو اپنی سواری کی لگام تھام لی،آپ کا سامان پیچھے رہ گیا تھااور آپ نے دیکھا کہ لوگوں نے اپنا جو سامان آگے بھیجا تھا اس کی طرف دوڑ رہےہیں توآپ کےآنسوبہنے لگے۔ خلیفہ نے پوچھا:کیوں رورہے ہو؟ آپ نے فرمایا: قیامت کا دن بھی اسی طرح ہو گا کہ جس نے جو چیز آگے بھیجی ہو گی اس کی طرف بڑھے گا اور جس نے کچھ نہ بھیجا ہو گا وہ خالی ہاتھ ہی بڑھتا رہےگا۔
رشتہ داروں کو نصیحت:
(7213)…حَجاج بن عَنْبَسَہ بن سَعِیْدکہتےہیں:ایک باربنومروان نےاکٹھےہوکرمشورہ کیاکہ ہم امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکےپاس جاکرانہیں اپنی جانب مائل کرتےاورانہیں اپنی رشتہ داری کا احساس دلاتے ہیں ۔چنانچہ وہ حاضر ہوگئے،ان میں سےایک شخص نےکوئی مَزاحِیَہ بات کی تو آپ نے اس کی طرف دیکھا، اتنے میں ایک اور شخص نےبھی کوئی مزاحیہ بات کہہ دی۔یہ دیکھ کرآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا:تم گھٹیااوررَنْجِش پیدا کرنے والی باتیں کرنے کے لئے جمع ہوئے ہو؟جب تم گفتگو کے لئے جمع ہی ہوئے ہو تو قرآن مجید کے متعلق بات کرو، مزید بات کرنا چاہو تو سنَّتِ رسول کی بات کرواور اس سے بھی آگے بڑھو تو تمہیں چاہئے کہ حدیث کے معانی ومَطالِب میں غور کرو۔
اپنے خاندان کا مُحاسَبہ:
(7214)…حضرتِ سیِّدُناجُوَیْرِیہ بن اَسماءرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکہتےہیں:ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزنےاپنےدربان سےکہا:آج میرےپاس بنومروان کےعلاوہ کوئی بھی نہ آئے۔چنانچہ جب بنومروان ان کے پاس جمع ہوئے تو آپ نےاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حمدوثناکی پھرفرمایا:اےبنومروان!تمہیں مال ودولت اورعزت واکرام سے نوازا گیا ہے،میراخیال ہےکہ اس امت کاآدھایاتہائی مال تمہارے قبضےمیں ہے۔یہ سن کربنومروان خاموش رہے۔ آپ نےفرمایا:جواب کیوں نہیں دیتے ہو؟ان میں سے ایک شخص