Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
353 - 531
کےساتھ سفرکیا،آپ اپنےسرسےٹانکوں والی سفیدٹوپی اُتار  کرفرمانے لگے:تمہارےخیال میں یہ کتنےدرہم کی ہوگی؟ہم نے عرض کی:ایک درہم کی۔فرمایا:خداعَزَّ  وَجَلَّکی قسم!میں اسے(یعنی بیت المال میں سےاتنی مقداربھی زائدلینامیں اپنےلئے) حلال نہیں سمجھتا۔
مسور کی دال دل کو نرم کرتی ہے:
(7211)…حضرتِ سیِّدُنا مَیْمون بن مِہْران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان بیان کرتے ہیں:حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نےمجھ سےفرمایا:میمون!مجھےکوئی حدیث سناؤ۔میں نے حدیث سنائی توآپ خوب روئے۔ میں نے کہا:امیرالمؤمنین!اگرمجھےمعلوم ہوتاکہ آپ اتناروئیں گےتواس سے نرم حدیث  سناتا۔آپ نے فرمایا:اےمَیْمون!میں مسورکی دال کھاتا ہوں اور مجھے معلوم ہے کہ یہ دل کونرم کرتی،خوب آنسوبہاتی اورجسم میں عاجزی پیدا کرتی ہے۔ پھر انہوں نے مجھے پکارا تو میں نے عرض کی: امیر المؤمنین ! میمون بن مہران حاضرہے۔فرمانےلگے:اےمیمون!میں تمہیں ایک وصیت کرتاہوں اسےیادکرلو:غیرمحرم عورت کے ساتھ تنہائی اختیارکرنے سےبچتے رہنا اگر چہ تمہارانفس اسے قرآن سکھانے کے لئے کہے۔
خلیفَۂ وقت کو نصیحت:
(7212)…حضرتِ سیِّدُنایحییٰ بن یحیی ٰغَسَّانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیبیان کرتےہیں کہ خلیفہ سُلَیْمان بن عبْدُالملک حج کرنے گیاتواس کے ساتھ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز بھی تھے، جب یہ لوگ عُسفان کی گھاٹی پرپہنچے توسلیمان نے اپنے لشکرکی طرف دیکھااوراس کےحجروں اور خیموں کو دیکھ کر خوش ہونےلگا  اورحضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز  سےکہنے لگا:اےعُمَر!تمہیں یہ سب دیکھ کر کیسا لگ رہا ہے؟آپ نےفرمایا:اےخلیفہ!میں دیکھ رہاہوں کہ دنیادنیا کو کھا رہی ہے آپ سے اس کا سوال اورمُواخَذہ ہوگا۔اسی دوران ایک کوّا سلیمان بن عبْدُالملک کےخیمےسےچونچ میں کوئی ٹکڑالےکراُڑا۔سلیمان نے پوچھا: اےعُمَر!تمہارے خیال میں اس کوے نے کیاکہا ہوگا؟ آپ نے فرمایا:شایدیہ کہاہوگاکہ ٹکڑا کہاں سےآیا اورکیسےنکلا۔سلیمان بن عبْدُالملک نےکہا:اےعُمَر!تم انوکھی بات کرتےہو۔آپ نےکہا:اگرآپ چاہیں تومیں آپ کو اس سےبھی انوکھی بات بتاؤں؟ خلیفہ  نے کہا:بتاؤ۔آپ نے فرمایا:جواللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو پہچان کر اس