Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
351 - 531
نجات پاسکے گاجس سے حق وصول کرنے والے بہت ہوں؟تمہاراگانے باجے کےآلات ظاہرکرنااسلام میں بدعت ہے۔میں نے ارادہ کرلیاہےکہ تمہارےپاس کسی ایسےشخص کوبھیجوں جوتمہارےکاندھوں سے لٹکنےوالے(خلافِ سنت) بُرے بالوں کو کاٹ ڈالے۔
	حضرتِ سیِّدُناامام اَوْزاعیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہمزیدفرماتےہیں:حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزہرروزاپنےذاتی مال سےایک درہم مسلمانوں کےغلے میں ملاتے پھرکھاناتناوُل فرماتے۔
سَلَف کی رائے کے مخالف رائےقبول نہیں:
(7206)…حضرتِ سیِّدُناامام اَوْزاعیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزفرماتےہیں:کسی کی وہ رائے قبول کرو جو سَلَف  کی رائے کےمُوافِق ہو،اگر ان کے  خلاف کوئی رائے  ہوتووہ قبول  نہ کرو کیونکہ وہ تم سے زیادہ  بہتراورزیادہ  علم  رکھتے تھے۔
(7207)…(الف)حضرتِ سیِّدُناابوعُمَررَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزنے حجاج بن یوسُف کےاُن اَحکامات کوتبدیل کرنے کا حکم دیا جوعُلَمائے دین  کے اَحکامات کے خلاف تھے۔
بنواُمَیَّہ کے خصوصی وظائف روک دیئے:
(7207)…(ب)حضرتِ سیِّدُناامام اَوْزاعیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں:جب حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نےبنواُمَیَّہ کودیئےجانےوالےخصوصی وظائف کاسلسلہ روک دیااورانہیں اپنے گھروں میں جانے کاحکم  دیاتوحضرتِ عنبسہ بن سعیدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْدنےاس بارےمیں آوازاٹھائی اور کہا: اےامیرالمؤمنین!ہم آپ کے رشتے دار ہیں۔آپ نے فرمایا: میرے اور تمہارے مال میں ہرگزاضافہ نہ ہوگا اورسلطنت کے مال میں تمہارا اتنا ہی حق ہے جتنا مقام ”بَرَکُ الغِمَاد“کے کنارے پر رہنےوالے عام آدمی کا ہےجسے اپنا حق لینے سے سفر کی دوری کے سوا کوئی چیز مانع نہیں۔ خدا کی قسم! میں دیکھ رہا ہوں کہ اگر معاملات نہ سنبھلےحتّٰی کہ دیگرلوگ بھی تمہاری طرح سوچنےلگےتوضروران پرعذابِ الٰہی آئےگااورایساہوبھی چکاہے ۔
	حضرتِ سیِّدُناامام اَوْزاعیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں:حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزنماز کے بعد لوگوں کو وعظ کرنے والےشخص  کےپاس   بیٹھتے اوراس کی  دعا میں شریک ہوتے۔