Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
350 - 531
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز ایک رات روتےہوئےبیدارہوئےتوان سےپوچھاگیا:امیرالمؤمنین!کیاہوا؟فرمایا:میں نےاپنے پاس ایک بوڑھےشخص کوکھڑا پایا،اس نے یہ اشعار کہے:
اِذَا مَا اَتَتْكَ الْاَرْبَعُوْنَ فَعِنْدَهَا		فَاخْشَ الْاِلٰهَ وَكُنْ لِّلْمَوْتِ حَذَّارَا
	ترجمہ:جب تم40 برس کے ہوجاؤ تواس  وقت بس خداکاخوف کرتےاورموت سے ڈرتے رہو۔
	حضرتِ سیِّدُناسُفیان  بن حسین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ جب حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز وفات پاگئےتودریاؤں نےبھی اپنارخ بدل لیا۔
امیرالمؤمنین کاحِلم:
(7204)…حضرتِ سیِّدُناامام اَوْزاعیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزنےایک شخص کوکسی حکومتی عہدےپرمُقَرَّرکرناچاہااس کےانکارکرنےپرآپ نے اس سے فرمایا:میں نےتمہارےلئےاس عہدےکاعزم کررکھاہے۔اس نےکہا:میں نےعہدہ نہ لینےکاعزم کررکھاہے۔ آپرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہنےاس سےفرمایا:نافرمانی نہ کرو۔اس نےکہا:اےامیرالمؤمنین!اللہعَزَّ  وَجَلَّارشادفرماتاہے:
اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیۡنَ اَنۡ یَّحْمِلْنَہَا(پ۲۲،الاحزاب:۷۲)	
ترجمۂ کنز الایمان:بےشک ہم نے امانت پیش فرمائی  آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر تو اُنھوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا۔
	توکیایہ  انکار ان کی طرف سے  نافرمانی تھی؟یہ سن کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اسے معاف فرمادیا۔
مساوات کا نظام:
(7205)…حضرتِ سیِّدُناامام اَوْزاعیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزنےعُمَربن ولیدکی طرف ایک مکتوب بھیجاجس میں یہ تحریرتھا:تمہارےوالدنےتمہارے لئےپوراخُمْس(مالِ غنیمت کاپانچواں حصہ) مقررکیاتھا،تمہیں تمہارے والد کا اتنا ہی حصہ ملےگا جتناایک عام مسلمان کوملتاہےنیزاس خُمس میںاللہعَزَّ  وَجَلَّ،رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم،رشتےداروں،یتیموں،مسکینوں اورمسافروں کابھی حصہ ہےتو بروزِ قیامت تمہارے والدسے حق لینے والے کتنے ہوں گےاور وہ شخص  کیسے