حضرت زبیر بن عوَّام جنتی ہیں، حضرت عبدالرحمٰن بن عَوف جنتی ہیں، حضرت سعد بن ابی وقاص جنتی ہیں اور اپنا نام لیتے ہوئے فرمایا کہ سعید بن زید جنتی ہے(رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن)۔
(6195)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بیان کیا کہ جس بیماری میں حضور نبیِّ پاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وصال ظاہری ہوا اس میں فرمایا:مجھے (اونٹ یا کسی جانور کے) کاندھے کی ہڈی اور دوات لاکر دو تاکہ تمہارے لئے ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہوگے(1)۔(2)
صدیق کا دریچہ بند نہ کرو:
(6619)…حضرتِ سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ارشاد ہے:”ابوبکر غار میں میرے رفیق اور مونِس تھے، ان کے دریچے کے علاوہ مسجد کا ہردریچہ بند کردو۔“(3)
ہرنشہ آورچیز حرام ہے:
(6197)…حضرتِ سیِّدُنا ابوموسٰی اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ مُعَلِّمِ کائنات، شاہِ موجودات
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیمراٰۃ المناجیح،جلد8،صفحہ296پراس کےتحت فرماتے ہیں:خیال رہے کہ حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمتین چیزوں سے معصوم ہیں: گناہ سے خصوصًا جھوٹ سے۔شرعی اَحکام بدلنے سے۔شرعی حکم چھپانےسےاورمخلوق تک نہ پہنچانےسے۔حتّٰی کہ جب حضورانور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)پرجادو ہواتب بھی آپ کوئی عبادت کوئی حکم شرعی نہ بھولےاور نہ تبدیل فرماسکےلہٰذاآج جوحکم لکھنا چاہتےتھے وہ وہ ہی تھا جوتندرستی شریف میں بیان کرچکے تھے کوئی نئی چیز نہ تھی۔اس میں گفتگو ہے کہ حضور انور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) اس وقت کیا لکھنا چاہتے تھے۔بعض کے نزدیک نماز کی تاکید۔لونڈی غلاموں سے اچھا سلوک۔مہمانوں سے اچھا برتاؤ۔بعض کے نزدیک حضرت ابوبکرصدیقرَضِیَ اللہُ عَنْہکے لیے خلافت نامہ جس کا ذکرایک بار حضور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نےعائشہ صدیقہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا)سے کیا بھی تھا کہ ابوبکر(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ)کوبلاؤمیں ان کےلئےخلافت لکھ دوں پھرفرمایاچھوڑوکوئی ضرورت نہیںاللہ تعالیٰ اور مسلمان ابوبکر کے ہوتے کسی کو خلیفہ نہ بنائیں گے۔پھرعملی طورپرآپ کوخلیفہ بنابھی دیاکہ اپنے مُصَلّےپراِمام بناکرکھڑاکردیا۔یہ امامَتِ صُغریٰ آپ کی امامَتِ کبریٰ کی دلیل ہے۔جیسےکہ کسی بزرگ کا اپنے کسی خلیفہ کو دستار بندی کردینا،سجادہ پر بٹھا دینا۔
2…مسلم،کتاب الوصية،باب ترک الوصية لمن ليس لہ شی ء یوصی فیہ،ص۸۸۸،حدیث:۱۶۳۷
3…فضائل الصحابة للامام احمد،ص۴۸۳ ،حدیث:۶۰۳