Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
349 - 531
سیِّدَتُنافاطمہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَانےتھام لیااورعرض کی:امیرالمؤمنین!آپ پرمیرےماں باپ قربان!ہم آپ کے بارے میں اپنے دل کی کیفیات کی پوری ترجُمانی نہیں کرسکتے۔آپ اسی بے ہوشی کی حالت میں رہے حتّٰی کہ نمازکاوقت ہوگیا،حضرتِ سیِّدَتُنافاطمہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَاآپ کےچہرےپرپانی چھڑکتےہوئے پکارکرکہنے لگیں:اےامیرالمؤمنین!نمازکا وقت ہوگیاتوآپ گھبراکراُٹھ کھڑےہوئے۔
سب گھر والے رونے لگے:
(7201)…مَسْلَمہ بن عبْدُالملک کےغلام عبْدُالسلام کابیان ہے کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز رونےلگےتوان کی زوجہ حضرتِ سیِّدَتُنافاطمہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَابھی رونےلگیں،انہیں دیکھ کرگھر کےدیگرافرادبھی رونے لگےمگرانہیں معلوم نہ تھا کہ وہ کیوں رو رہے ہیں؟آنسو تَھمے تو حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَانےعرض کی:امیرالمؤمنین!آپ پرمیرےماں باپ قربان۔آپ کیوں روئے؟فرمایا: فاطمہ! مجھےلوگوں کااللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی  بارگاہ میں حاضرہونایادآگیا جس کے بعد کوئی جنت میں جائے گا اور کوئی دوزخ میں۔ یہ کہہ کرآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےچیخ ماری اور بے ہوش گئے۔ 
آباءواجداد کی قبریں دیکھ کر رونے لگے:
(7202)…حضرتِ سیِّدُنا مَیْمون بن مِہْران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن بیان کرتےہیں:میں حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکےساتھ قبرستان گیا،آپ(اپنےآباءواجدادکی)قبریں دیکھ کررونےلگےپھرمجھ سےمخاطب ہوکرفرمانےلگے:اےابوایوب!یہ  میرےباپ دادا کی قبریں  ہیں،ایسالگتا ہےکہ یہ کبھی دنیا والوں کےعیش وعشرت میں شریک ہی نہیں ہوئے۔کیاتم انہیں بےبس نہیں دیکھتے؟یہ عبرت ناک سزاؤں کاسامنا کرچکے،ان پرمصیبتیں اورسخت ہوگئیں،ان کے جسموں میں کیڑے مکوڑوں نے ڈیرے ڈال دیئے۔پھرآپ روتےروتےبےہوش ہوگئے،طبیعت سنبھلی تو مجھ سے فرمانےلگے:مجھےیہاں سےلےچلوبخدا!میں کسی ایک کوبھی نہیں جانتا جوان قبر والوں سے زیادہ مزے میں ہواوراللہ عَزَّ  وَجَلَّکے عذاب سے محفوظ بھی ہوچکا ہو۔
دریاؤں نے رُخ بدل لیا:
(7203)…حضرتِ سیِّدُناسُفیان بن حُسَیْنرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز