کثرت سے یاد کرو پھر دنیا میں ملنے والی نعمت کے معاملے میں خوفزدہ رہوکیونکہ جسےدنیاوی نعمتوں کا خوف اور ڈر نہ ہوتو عنقریب یہ حالت اسےغفلت کا شکارکردے گی۔دنیا میں تمہیں جس چیز کا حکم دیا گیاہےاس کے بارے میں اپنےعمل پرباربارنظر کروپھرعمل بجالاؤ کہ یہ بات تمہیں دنیا میں مشغول ہونے سے پھیر دے گی۔جب تک تم علم کوجہل پرترجیح نہ دواُسےحاصل نہیں کر سکتےاور باطل کوچھوڑےبغیرحق کونہیں پاسکتے۔ ہم اپنے اورتمہارے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سےاچھی مدد کاسوال کرتے ہیں۔اللہ عَزَّ وَجَلَّاپنی رحمت سے ہماری اور تمہاری برائیوں کو اچھی طرح دورفرمائے۔
رات بھرقبر کےمتعلق سوچتے رہے:
(7200)…حضرتِ سیِّدُناابوسَریع شامیقُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِیبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزنےاپنےہم نشیں سےفرمایا:اےابوفلاں!میں رات بھرغوروفکرکرتارہا۔اس نےپوچھا: اے امیرالمؤمنین!کس چیزکے بارے میں ؟فرمایا:قبراوراہل قبر کے بارے میں کیونکہ اگر تم مردے کو تین دن کےبعدقبر میں دیکھ لو تو طویل عرصہ اس کے ساتھ مانوس رہنے کے باوُجود تمہیں اس کے قریب جانے سےوَحشت آنے لگے اور اگر تم اس کے گھر (یعنی قبر)کودیکھو تو اس میں کیڑے مکوڑے پھر رہے ہیں،پیپ بہہ رہی ہے، کیڑے اس کے بدن کو کھارہے ہیں اور بدبو آرہی ہےجبکہ صاف ستھرا اور خوشبودار کفن بوسیدہ ہوچکاہے۔یہ کہہ کرآپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسِسْکِیاں لے کر رونےلگےاورروتےروتےبےہوش ہوگئے۔ آپ کی یہ حالت دیکھ کرآپ کی اہلیہ حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَانے کہا: اےمُزَاحِم!اس ہم نشیں کو رُخصت کردو ۔جب سےامیر المؤمنین خلیفہ بنے ہیں موت کے خوف نے ان کی زندگی بے کیف کردی ہے،کاش!یہ خلیفہ نہ بنتے۔وہ ہم نشیں رخصت ہوا توحضرتِ سیِّدَتُنافاطمہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَاآئیں اورروتے ہوئے آپ کےچہرے پر پانی چھڑکنے لگیں،جب آپ کو ہوش آیا توزوجہ کوروتےدیکھ کرپوچھا:کیوں رو رہی ہو؟ انہوں نے عرض کی:امیرالمؤمنین!آپ کی یہ حالت دیکھ کر مجھے وہ حالت یاد آگئی جب آپ مرنے کے بعددنیاچھوڑکراللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پاس چلے جائیں گےاور ہم سے جُدا ہو جائیں گے،اِس خیال نے مجھے رُلادیا۔ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا:اےفاطمہ!تم نےبَرمحل بات کی۔پھرآپ(بےہوش ہوکر)گرنےلگےتو حضرتِ