Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
347 - 531
 تَعَالٰی عَلَیْہ نےاندرجا کراپنےوالدِماجدکوبنومروان کاپیغام دیاتوآپ نےفرمایا:ان سےجاکرکہوکہ میرے والد نے یہ کہا ہے کہ ”اگرمیں اپنے رب کی نافرمانی کروں تومجھے آخرت کےعذاب کا ڈر ہے۔“
(7197)…ایک اَزدی شخص نےحضرتِ سیِّدُنا غَسَّان بن مُفَضَّل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو بتایاکہ حضرتِ سیِّدُنا عُمَر بن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز سےکسی نےعرض کی:مجھےنصیحت کیجئے۔ارشادفرمایا:میں تمہیں اللہ  عَزَّ   وَجَلَّسے ڈرنےاوراُس کواپنی ذات پر ترجیح دینے کی نصیحت کرتا ہوں کہ اس سے تمہاری مشقت کم ہوجائےگی اور اللہ تعالیٰ کی اچھی مدد تمہارے شامل حال ہوگی۔
تقوٰی اختیار کرنے والے کم ہیں:
(7198)…حمزہ جَزری کابیان ہےکہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نےایک شخص کوخط لکھا:میں تمہیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے ڈرتے رہنے  کی وصیت کرتاہوں جس کے بغیراللہ عَزَّ  وَجَلَّکچھ قبول نہیں کرتا۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّپرہیزگاروں پررحم کرتااورانہیں ثواب عطافرماتا ہے۔تقوٰی کی نصیحت کرنے والے تو بہت  ہیں  مگر  اس  پر عمل کرنے والےکم ہیں۔
گورنر کو نصحیت بھرا مکتوب:
(7199)…حضرتِ سیِّدُناعَدی بن عَدی کِنْدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز  نےایک گورنرکو خط لکھا:تم یہ سمجھوکہ گویا لوگاللہعَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضر ہوچکےہیں اباللہ عَزَّ  وَجَلَّانہیں ان کے اعمال کی خبر دے رہا ہےتاکہ بُرائی کرنے والوں کو ان کے کئے کا بدلہ دے اور نیکی کرنے والوں کو نہایت اچھا صلہ عطا فرمائے۔اس کےحکم میں کوئی ردوبدل نہیں کرسکتااور نہ ہی 	کوئی اس کے اَمر میں جھگڑا کرسکتاہے۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے بندوں سے اپنے جس حق کی حفاظت کا وعدہ لیا اوراس کےبارےمیں انہیں جوحکم دیاہےاس  سےکوئی پیچھےنہیں ہٹ سکتا۔میں تمہیںاللہ عَزَّ  وَجَلَّسے ڈرنے کی وصیت کررہاہوں اوراللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عطا کردہ عزت ونعمت کے شکرپراُبھاررہا ہوں کیونکہ شکرنعمتِ الٰہیہ کو بڑھاتاہےاور ناشکری  نعمت کوختم کرتی ہے۔ موت کو کثرت سے یاد کرو جس کے بارے میں معلوم نہیں کہ کب آجائےاورجس سےچھٹکاراممکن ہے نہ اس سے کوئی بچ سکتاہے۔قیامت اوراس کی ہولناکی کوبھی