کرآپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےاپنےکپڑےکادامن آنکھوں پررکھااوررونےلگےپھرمنبرسےاُترآئے۔ اس کے بعدپھروصال فرمانےتک آپ خطبہ کےلئےتشریف نہیں لائے۔
نصیحت بھرا مکتوب:
(7194)…حضرتِ سیِّدُناعیسٰیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نےایک شخص کوخط لکھا(جس کامضمون کچھ یوں تھا):میں تمہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرنے، جتنا ہوسکے اپنے مال واسباب کے ساتھ آخرت کی طرف تیزی سے چلنے کی وصیت کرتا ہوں۔بخدا!گویا تم نے شب وروز کی تبدیلی کےسبب موت اورمابعدِموت کودیکھ لیاہےکہ کیسےیہ تبدیلی موت کی طرف لئےجارہی اورعُمْرگھٹا رہی ہے۔اس نے ہر چیز کو فنااور ہر زمانے کو پُرانا کردیا اور یہ زندہ لوگوں کے ساتھ بھی وہی کچھ کرنے والی ہے جواس نےفوت شدہ لوگوں کے ساتھ کیا۔ہماللہ عَزَّ وَجَلَّ سےاپنے بُرےاَعمال کی مُعافی طلب کرتے اور نصیحت کرنے میں کوتاہی ہوجانے پر اس کی ناراضی سے پناہ مانگتے ہیں۔
(7195)…حضرتِ سیِّدُناجَعْوَنہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ جب حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکےبیٹےعبْدُالملک کاانتقال ہواتوآپ اُس کی تعریف کرنےلگے۔مَسلمہ بن عبْدُالملک نے عرض کی:اےامیرالمؤمنین!اگروہ زندہ ہوتےتوکیاآپ انہیں جانشین مقررکرتے؟فرمایا:نہیں۔ مَسلمہ نے کہا:آپ ایسا کیوں نہیں کرتےحالانکہ آپ توان کی تعریف کررہے ہیں؟فرمایا:مجھے ڈر ہےکہ اگر میں ایسا کروں تو میری آنکھوں میں اس کے لئے وہ چیز مُزَیَّن کرد ی جائے جو والد کی آنکھ میں اولاد کے لئے کردی جاتی ہے۔
آخرت کےعذاب کا ڈر:
(7196)…حضرتِ سیِّدُنا وُہَیْب بن وَرْدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ بنومروان حضرتِ سیِّدُنا عُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکےدروازے پرجمع تھے،اسی دوران آپ کےبیٹےعبْدُالملک آئےاور اندر داخل ہونےلگے،بنومروان نےان سےکہا:آپ ہمارے لئے اجازت طلب کریں یا ہماراپیغام امیرالمؤمنین تک پہنچادیں۔آپ کےبیٹےنےکہا:بتایئے؟انہوں نے کہا:پہلے کے خُلَفا ہمیں تحفے دیا کرتے اور ہمارے مرتبے کو پہچانتےتھے،تمہارے والد صاحب نےہمیں ان سےمحروم کررکھاہے۔حضرتِ سیِّدُناعبْدُالملکرَحْمَۃُ اللہِ