کے لئے عمل کرو دنیا تمہیں کافی ہو جائے گی اور(۳)…جان لو!ایساکوئی شخص نہیں جس کےآباءواَجدادمیں سےکوئی ایسا ہوجسےموت نے اپنی آغوش میں نہ لیا ہو۔وَالسَّلَامُ عَلَیْکُمْ
نصیحت بھری تعزیت:
(7191)…حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نےحضرتِ سیِّدُناعُمَربنعُبَـیْدُاللہبنعبْدُاللہ بن عُتبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکوان کےبیٹے کی موت پرتعزیت نامےمیں حمدوصلوٰۃکےبعدلکھا:ہم دنیا میں رہنے والےآخرت کےباشندے ہیں،مرنے والےہیں اورمرنے والوں ہی کی اولاد ہیں۔کتنےتعجب کی بات ہے کہ مرنے والا مرنے والے کے بارے میں مرنے والے سے تعزیت کرتا ہے۔
(7192)…حضرتِ سیِّدُنامحمدکوفیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نےخطبہ دیتےہوئےحمدوثناکےبعدفرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّنےمخلوق پیدافرمائی اورانہیں موت دی پھر انہیں دوبارہ اٹھائے گا، کچھ لوگ جنت میں اور کچھ دوزخ میں جائیں گے۔بخدا!اگر ہم اس کی تصدیق کریں تو (عمل نہ کرنے کے سبب)بیوقوف قرار پائیں گےاور اگر جھٹلائیں تو ہلاک ہوجائیں گے۔یہ کہہ کر آپ منبر سے نیچےتشریف لےآئے۔
آخری خطبہ:
(7193)…حضرتِ سیِّدُناعبداللہبن مُفَضَّل تَمِیْمِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکابیان ہےکہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزنےبرسرِمنبراپنےآخری خطبہ میں حمدوثناکےبعدفرمایا:جوتمہارےہاتھ میں ہے وہ مُردوں کامال ہےاورجس طرح وفات شدہ لوگ مال چھوڑگئے بقیہ بھی اسی طرح چھوڑ جائیں گے۔ کیاتم نہیں دیکھتے کہ تم ہر روزصبح و شام کسی نہ کسی کا جنازہ بارگاہِ خداوندی میں لے جاتے ہواور اُسے زمین کے گڑھےمیں دفن کردیتے ہوجہاں بچھوناہوتا ہے نہ تکیہ۔مال اورعزیزواقربابھی اس کاساتھ چھوڑدیتے ہیں، مٹی اس کا ٹھکاناجبکہ اسےحساب وکتاب کاسامنا ہوتا ہے۔جو کچھ اُس نے آگے بھیجاہوتا ہے اِس کی اُسے محتاجی ہوتی ہےاور جو چھوڑ گیا وہ اس کے کسی کام کا نہیں ہوتا۔بخدا!میں یہ باتیں تم سے کہہ رہا ہوں اور میں تم سب سےزیادہ اپنےنفس کوپہچانتاہوں۔حضرتِ سیِّدُناعبداللہبن مُفَضَّل تَمِیْمِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتےہیں:یہ کہہ