Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
344 - 531
سعیدبن عاصرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےحضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کےپاس آکرکہا:اے امیرالمؤمنین! آپ سے پہلے خُلَفا ہمیں خصوصی وظائف دیا کرتے تھے مگر آپ نہیں دیتے اورمیرے ساتھ گھروالے ہیں اور جائیداد بھی ہےتو کیاآپ  مجھے یہ کہتے   ہیں کہ میں اپنی جاگیر میں چلاجاؤں اور گھروالوں کی بہتری کے لئے کام کرنے لگ جاؤں۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”تم میں  وہ شخص  ہمیں زیادہ پسند  ہےجو اپنی محنت کےسبب ہمیں بے نیاز کردے۔“حضرتِ سیِّدُناابو عَنْبَسہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ آپ کےپاس سے اٹھ کھڑےہوئے،ابھی دروازےتک ہی پہنچےتھےکہ آپ  نےانہیں آوازدی وہ واپس آئےتوآپ نےکہا:”موت کوکثرت سے یادکیاکرو کیونکہ اگرتم تنگی میں ہوئے تو موت کی یادزندگی کوتم پر وسیع کر دے گی اوراگر فراخی میں ہوئے تو موت کی یاد اسے تم پر تنگ کر دے گی۔“ 
موت کا نشانہ:
(7188)…حضرتِ سیِّدُناجَعْوَنہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:اے لوگو!تم ایسے ہَدَف ہوجس  پر موت کانشانہ ہے،تمہیں ایک نعمت دی جاتی ہے تو ایک جُدا ہوجاتی ہے،وہ کون سالُقمہ ہےجس  میں اَٹکَن  نہیں اورکون ساگھونٹ  ہے جس  میں اُچُّھونہ لگے۔گزشتہ  دن مقبول گواہ ہےجوتمہیں  تکلیف دےکراور تمہارے سامنے اپنی حکمت چھوڑ کر چلا گیاجبکہ آج کا دن رُخصت ہونے والے محبوب کی طرح ہے جوجلدروانہ ہورہاہےاورکل  جوہوناہےوہ ہوکررہے گا۔ وہ مطلوب کہاں بھاگ سکتا ہے جو ایسے طالب کے قابو میں ہوجو مطلوب سے زیادہ قوی اور طاقتورہو۔تم اس مسافر کی طرح ہو جودوسرے گھرمُنْتَقِل ہونے کے لئے اپنی سواریوں کی گرہیں  کھول رہا ہے۔تم توشاخیں ہوجڑیں جاچکی ہیں اورجڑوں کے جانے کے بعدشاخوں کوکیسی بقا؟
موت    آکر رہے گی:
(90-7189)…حضرتِ سیِّدُناعُبَـیْدُاللہبن عَیزارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّاربیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَر بن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزنےہمیں ملک شام کےمقامِ طین پربَرْسرِمنبرخطبہ دیااورحمدوثناء  کے بعد تین باتیں کہیں:(۱)…اےلوگو!پوشیدہ حالت درست کروتمہاری ظاہری حالت بھی درست ہوجائےگی (۲)…آخرت