Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
342 - 531
	یہ اشعارکہنے کےبعدحضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزيزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزوہاں سےچلےآئے اور اس کے ايک ہفتے بعد آپ کاانتقال ہوگیا۔
قبر میں مردے کا حال:
(7181)…حضرتِ سیِّدُنااسدبن زیدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں:ہم حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کےساتھ ایک جنازےمیں شریک ہوئے۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہتدفین کےبعداپنےچھوٹے خچرپرسوارہوکرایک قبرکےپاس گئےاوراس کےپاس اپنی چھڑی گاڑکرفرمایا:اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاصَاحِبَ الْقَبْریعنی اےقبروالےتم پرسلامتی ہو۔حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزفرماتےہیں:مجھےپیچھےسے آوازآئی: وَ عَلَیْکَ السَّلَامُ یَاعُمَرَ بْنَ عَبْدِالْعَزِیْزعَمَّ تَسْاَلُیعنی اےعُمَر بن عبْدُالعزیز!آپ پرسلامتی ہو،آپ کیا پوچھنا چاہتےہیں؟میں نے کہا:تیرےمکین کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں۔اس نے کہا:بدن تو میرے  ہی پاس ہےلیکن روح بارگاہِ الٰہی میں بھیج دی گئی ہے،میں مزیداس کے حال سے واقف نہیں۔میں نےکہا:میں تیرےمکین کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں۔اس نے کہا:میں  اس کی آنکھیں نکال دیتی،پتلیاں نگل جاتی، کفن پھاڑ دیتی اوربدن کھاجاتی ہوں۔اسی طرح  اس نے  مختلف چیزوں کاذکر کیا اورنصیحت آموز اشعاربھی کہے۔
بوسیدہ نہ ہونے والا کفن:
(7182)…حضرتِ سیِّدُناابوقُرَّہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزبنومروان کےکسی فرد کے جنازے میں گئےاورنمازجنازہ کے بعدلوگوں کورُکنے کاکہا تووہ رُک گئےپھرآپ نے اپنے گھوڑے کو ایڑلگائی تووہ قبروں کےدرمیان سے چلتے ہوئے لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوگیا۔لوگ کافی دیرآپ کا انتظارکرتے رہے حتّٰی کہ آپ کے واپس نہ آنے کا گمان ہونے لگا۔جب آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہواپس تشریف لائے تو آنکھیں سرخ اوررَگیں پھولی ہوئی تھیں۔لوگوں نےپوچھا: اےامیرالمؤمنین!آپ نے بہت دیر لگادی؟فرمایا:میں اپنے عزیز واقربا یعنی آباءواجدادکی قبروں پر گیاتھا اور میں نے انہیں سلام کیاتوانہوں نے جواب نہ دیا،جب واپس مُڑا تو پیچھےسےقبر کی مٹی نے آواز دے کر کہا:اےعُمَر!مجھ سےنہیں پوچھوگےکہ تمہارے قرابت داروں کاکیا حال ہوا؟میں نےکہا:کیا حال ہوا؟اس