Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
341 - 531
دوسرے نکاح کرلئے،اَولادگليوں میں  دربدر ہے،رشتہ داروں نے ان کےمکانا ت وميراث بانٹ لئے۔خدا عَزَّ  وَجَلَّ کی قسم!ان میں کچھ خوش نصيب وہ ہیں جن کی قبروں میں وُسعت ،رونق  اور تازگی ہے اور وہ  قبروں میں مزے لوٹ رہے ہيں۔اے کل قبر کے مکین ہونے والے شخص!تجھے دنیاکی کس چیز نے دھوکے میں رکھا؟ کیاتو یہ سمجھتا ہےکہ ہمیشہ رہےگایا یہ دنیاتیرے  لئے باقی رہے گی؟تیراوسیع گھراور تیری جاری کردہ نہر کہاں گئی؟تیرےپکے ہوئےپھل کہاں گئے؟تیرے باریک کپڑے، خوشبو اور دھونی کہاں ہیں؟تیرے گرمی سردی کے کپڑے کیا ہوئے؟ کیا تو نے مرنے والےکونہیں دیکھاکہ جب اسے موت آتی ہے  تو وہ خود پر سے گھبراہٹ دور نہیں  کرسکتا، پسینے سےشرابور رہتا ہے،پیاس سےبِلْبِلاتااور موت کی سختی و تکلیف سے پہلو بدلتاہے ۔ربّ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ سے حکم آگیا ہے،تقدیر کا اٹل فیصلہ ہوچکا ہے اور وہ اَمْر آچکا ہے جس سے تو نہیں بچ سکتا۔
	(پھراپنےآپ سےکہنےلگے)افسوس صدافسوس!اےباپ،بھائی اوربیٹےکی آنکھیں بندکرکےانہیں غسل دینےوالے!اےمیت کوکفن دینےاوراسےاٹھانےوالے!اےقبرمیں اکیلاچھوڑکرلوٹ جانے والے!کاش! توجان لیتا کہ تُوکُھردُری زمین پرکس حال میں ہوگا؟ کاش!توجان لیتا کہ تیرا کون سا گال پہلےسڑے گا؟اے مہلکات میں پڑے رہنے والے!تو(عنقریب)مُردوں  میں جابَسے گا۔ کاش!تجھے معلوم ہوتا کہ دنیا سے جاتے وقت ملَکُ الموت عَلَیْہِ السَّلَامتجھ سے کس حال میں ملیں گے؟اور میرے رب کا کیا پیغام لائیں گے۔پھر یہ اشعار کہے:
تُسَرُّ بِمَا يَفْنٰى وَ تُشْغَلُ بِالصَّبَا		كَمَا غُرَّ بِاللَّذَّاتِ فِي النَّوْمِ حَالِمُ
نَهَارُكَ يَا مَغْرُوْرُ سَهْوٌ وَّ غَفْلَةٌ		وَ لَيْلُكَ نَوْمٌ وَالرَّدٰى لَكَ لَازِمُ
وَ تَعْمَلُ فِيمَا سَوْفَ تَكْرَهٗ غِبَّهٗ		كَذَلِكَ فِي الدُّنْيـَا تَعِيْشُ الْبَهَايِمُ
ترجمہ:(۱)…تم فانی  چیزوں  پر خوش اور کھیل تماشوں میں ایسےمصروف ہوجیسے سونے والے کو خواب کی  لذت نے دھوکےمیں رکھا۔
	(۲)…اے دھوکے میں مبتلا شخص!تیرا دن بھول اور غفلت میں گزرتاجبکہ رات سونے میں گزرتی ہےپس تیری ہلاکت لازمی ہے۔
	(۳)…تواس چیزمیں پڑا ہوا ہےجس کے ختم ہونے کو تو ناپسند  جانتا ہےایسی زندگی تو دنیا میں چوپائےبھی جیتے ہیں۔