مگراس میں بہت تھوڑا عرصہ رہ پائے۔انہیں صحت وتندرستی نے دھوکے میں ڈالااورچستی نے مغرور بنا یاتو گناہوں میں پڑ گئے ۔بخدا!اُس مال کے سبب ان پر حسرت کی جاتی ہے جو انہوں نے بڑی کنجوسی کے بعد حاصل کیااور اس کے جمع کرنے کی وجہ سے ان سے حسد کیا جاتا ہے۔سوچو!مٹی اورریت نے ان کے جسموں کے ساتھ کیا کِیا؟ قبر کے کیڑوں نے ان کی ہڈیوں اورجوڑوں کا کيا حال کرديا؟ یہ دُنيا میں خوشحالی اور چین میں رہتے،نرم وملائم بستروں پر سوتے،نوکر چاکر ان کی خدمت کرتے،گھر والے ان کی عزت اورپڑوسی ان کی حمایت کرتےتھے۔اگرتم انہیں پکار سکو توگزرتے ہوئے ضرور پکارنااور اگر انہیں بلاسکوتوضروربلانا۔ان مردوں کےلشکر کےپاس سے تم گزرو تو جن گھروں میں یہ عیش وعشرت سےرہا کرتے تھے ان کے اردگرد کوبھی دیکھو۔ان کے مال داروں سے پوچھو:تمہارے پاس کتنامال بچا ہے؟ان کےفقیروں سے پوچھو:تمہارا فقرکتنا باقی ہے؟ ان سے ان کی زبانوں کے متعلق پوچھو جن سے وہ باتیں کیا کرتے تھے،ان کی آنکھوں کے بارے میں پوچھو جن سے بدنگاہی کیاکرتے تھے۔ان سے پوچھوکہ پتلی جلد،خوبصورت چہرے،نزم ونازک بدن کے ساتھ کیڑوں نے کیا سلوک کیا؟ کیڑوں نے ان کے رنگ اُڑادیئے،گوشت کھاگئے،چہرےخاک آلودکر دیئے، خوبصورتی کو ختم کردیا،ریڑھ کی ہڈی توڑکرجسم کےٹکڑےٹکڑےکردیئےاورجوڑوں کوریزہ ریزہ کردیا۔ ان سےپوچھو تمہارےخیمےاورعورتیں کہاں گئیں؟خدمت گارکہاں گئے؟غلام کہاں گئے؟ جمع پونجی اورخزانےکہاں گئے؟اللہعَزَّ وَجَلَّکی قسم!انہوں نےقبرکےلئے کچھ تیاری نہیں کی،کوئی سہارابھی نہیں بنایا،نیکی کاپودابھی نہیں لگایا،سکونِ قبر کےلئے کچھ نہیں بھیجا۔کیااب وہ تنہائی اورویرانوں میں نہیں پڑے ہوئے؟ کیا اب ان کے لئے دن اور رات برابر نہیں؟ کیا اب وہ تاریکی میں نہیں ہیں؟ہاں! اب ان کے اوران کےعمل کےدرمیان رُکاوٹ کردی گئی اورعزیزواَقْرِباسےان کی جُدائی ہوگئی ہے۔کتنے ہی خوشحال مَردوں اور عورتوں کی حالت بدل گئی،ان کےچہرےگل سڑ گئے،ان کےجسم گردنوں سے جدا ہو گئے،ان کےجوڑ الگ الگ ہوگئے،ان کی آنکھیں رُخساروں پر بہہ پڑیں، منہ خون اور پیپ سے بھر گئے،ان کےجسموں میں حشرات الارض(کیڑےمکوڑے)پھرنےلگے،اعضا بکھرکر جدا ہوگئے،بخدا!کچھ ہی عرصے میں ان کی ہڈیاں بوسیدہ ہوگئیں،باغات چھوٹ گئے، کشادگی کے بعدوہ تنگی میں جا پڑے، ان کی بيواؤں نے