سدرۃالمنتہیٰ کی خصوصیت:
(6193)…حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو معراج عطا کی گئی تو آپ کو سدرۃُ المنتہیٰ لے جایا گیا یہ ساتویں آسمان پر ہے۔ جو چیزیں زمین سے اوپر اٹھائی جاتی ہیں یہاں تک ہی پہنچتی ہیں پھر یہاں سے لے لی جاتی ہیں اور جو چیزیں اوپر سے اتاری جاتی ہیں یہاں تک ہی پہنچتی ہیں پھر یہاں سے لے لی جاتی ہیں۔ سدرہ پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا۔ حضور نبیِّ اکرم، نورِ مجسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کے بارے میں فرمایا: وہ سونے کےپتنگےتھے(1)۔
حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مزید بیان کیا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تین چیزیں دی گئیں:(۱)…پانچ نمازیں(۲)…سورۂ بقرہ کی آخری آیات اور(۳)…شرک کےعلاوہ آپ کے اُمتی کی تمام بُرائیوں کی بخشش۔
اے اُحد!ٹھہر جا:
(6194)…حضرتِ سیِّدُنا سعید بن زید بن عَمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:یہ حکمران مجھے کہتے ہیں کہ میں اصحابِ رسول کو بُرا کہوں حالانکہ جب رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُحد پہاڑ پر تشریف لے گئے تو آپ کے ساتھ یہی اصحاب تھے، اُحد پہاڑ لرزنے لگا تو حضور نبیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”اے اُحد!ٹھہر جا!تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور ایک شہید ہے۔“(2)
پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:حضرت ابوبکر صدیق جنتی ہیں، حضرت عمر بن خطاب جنتی ہیں،
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مفسرشہیرحکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیمراٰۃ المناجیح،جلد8،صفحہ158پراس کےتحت فرماتے ہیں: سدرۃُ المنتہیٰ کےبیان میں جوآیتِ کریمہ’’اِذْ یَغْشَی السِّدْرَۃَ مَا یَغْشٰی ﴿ۙ۱۶﴾‘‘(پ۲۷،النجم:۱۶،ترجمۂ کنز الایمان:جب سدرہ پر چھارہا تھاجوچھارہاتھا)واردہےاس کی تفسیرحضورانور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)نے پتنگوں سےکی پتنگےیاتوفرشتےہیں یااَرواحِ انبیاء جو پتنگوں کی طرح محسوس ہوتی ہیں خیال رہے کہ اس بیری کے ہر پتہ پر فرشتوں کی فوجیں ہیں بزرگوں کی روحیں اور سبزرنگ کےغیبی پرندےاوررنگ برنگےاَنوار۔
2…بخاری،کتاب فضائل اصحاب النبی،باب مناقب عثمان بن عفان، ۲/ ۵۳۱،حدیث:۳۶۹۹
مسندامام احمد،مسند سعید بن زید،۱/ ۳۹۹،حدیث:۱۶۳۸