اَمین اَمین کہہ کرپکارامگراس نےجواب نہ دیاتوآپ نےکسی کوبھیج کراُسےبلوایااورپوچھا:تم بلانےپرکیوں نہیں آئی؟بیٹی نےجواب دیا:میں ایسالباس پہنے ہوئےنہیں تھی کہ آپ کےپاس آتی۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےمُزاحِم سےکہا:دیکھو!جس بستر کو ہم نےاُدھیڑاتھااس میں سےایک قمیص کاکپڑاکاٹ کراِسےدےدو۔ حضرتِ سیِّدُنامزاحمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےایک ٹکڑا کاٹ کردے دیا۔ ایک شخص نے بچی کی پھوپھی اُمُّ الْبَنِیْن کے پاس جا کرکہا:آپ کے پاس بہت کچھ ہے جبکہ آپ کی بھتیجی کے پاس عمدہ لباس نہیں ہے۔ چنانچہ اس نے اپنی بھتیجی کو کپڑوں کی ایک الماری بھیجی اور کہا:عُمرسےکچھ نہ مانگنا۔
قبر کی پکار:
(7180)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عَیَّاش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عُمَربن عبدالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز ایک جنازے کے ساتھ گئے تو لوگ آگے بڑھ گئے اورآپ پیچھے رہ گئے۔ لوگ جنازہ رکھ کر آپ کا انتظار کرنے لگے جب آپ پہنچے تو کسی نے کہا:اے امیرالمؤمنین! آپ تو میت کے ولی ہیں ،آپ جنازہ کواور ہمیں چھوڑ کر کہاں رہ گئے تھے ؟فرمایا:ہاں!ابھی ایک قَبْر نے مجھےپکار کر کہا:اےعُمَربن عبدالعزیز!مجھ سےکیوں نہیں پوچھتےکہ میں اپنےاندرآنے والوں کے ساتھ کیابرتاؤکرتی ہوں؟میں نے اُس سےکہا:مجھے ضَرور بتا۔ وہ کہنے لگی:میں اس کا کفن پھاڑ کرجِسْم کےٹکڑےٹکڑےکر ڈالتی ہوں، اس کاخون چوس کر گوشت کھا جاتی ہوں۔ کياتم مجھ سے نہيں پوچھو گے کہ میں اس کے جوڑوں کے ساتھ کيا کرتی ہوں؟میں نے کہا:ضَرور بتا۔کہنے لگی:میں ہتھیلیو ں کو کلائيوں سے،کلائيوں کوبازوؤں سے، بازوؤں کو کاندھوں سے،سرینوں کورانوں سے،رانوں کوگھٹنوں سے،گُھٹنوں کو پِنڈليوں سےاور پِنڈليوں کو قدموں سے جُداکرديتی ہوں۔اتنا کہنے کے بعدآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہرونے لگے پھر فرمایا:سنو!اِس دنیا کی عُمْر بہت تھوڑی ہےجو گناہ گار اس دنیا میں عزت والا ہے آخِرت میں ذلیل ورسواہوگا،جومال دار ہےآخرت میں فقیرہوگا،اس کا جوان بوڑھاہوجائےگااور زندہ مر جائے گا،لہٰذا دنيا کا تمہاری طرف آناتمہیں دھوکے میں نہ ڈالےکیونکہ تم جانتے ہويہ بہت جلد رُخصت ہونے والی ہے۔دھوکے میں پڑنے والا وہی ہے جو اس سے دھوکا کھائے۔کہاں گئے اس میں بسنے والے؟جنہوں نے شہر آباد کئے ، نہریں نکالیں اوردرخت اُگائے