Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
338 - 531
نہیں تھی بلکہ تم نے خچر کو تھکا دیا ہے،چلواب اسے تین دن آرام دو۔
کنیز سےحُسنِ سلوک:
(7177)… حضرتِ سیِّدُنایحییٰ بن یحییٰ غَسَّانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتےہیں:حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کی اہلیہ کی ایک کنیزتھی جسے انہوں نے حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کی خدمت میں  پیش کرکےکہا:میں جانتی ہوں کہ  یہ آپ کوپسند ہےلہٰذا  میں اسےآپ کوتحفے میں دیتی ہوں، آپ اپنی ضرورت اس سے پوری کیجئے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:اے کنیز!بیٹھو،بخدا! تمہیں  پانے سے زیادہ مجھے دنیاکی کوئی چیز پسند نہیں،تم مجھے اپنے  بارے میں بتاؤاوراپنے قیدی بننے کاواقعہ بھی بتاؤ۔اس نے کہا:میراتعلُّق بَرْبَرْقبیلےسے ہے۔میرےوالد ایک جرم کرنےکےبعدعبْدُالملک بن مروان کی طرف سے افریقہ پرمقررگورنرموسٰی بن نُصَیرسے بھاگ گئے۔موسٰی بن نُصَیرنے مجھےگرفتارکرکےعبْدُالملک کو تحفۃ ًدےدیا،اس نےمجھےاپنی بیٹی فاطمہ کوتحفے میں دےدیااورانہوں نےمجھےآپ کے حوالےکردیا۔ حضرتِ سیِّدُنا عُمَر بن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نےفرمایا:بخدا!قریب تھاکہ ہم رُسوا ہوجاتے۔ پھر آپ نے اس کنیز کو ضرورت کا سامان دےکر اس کے گھر والوں کے پاس بھیج دیا۔
بہترین میانہ روی اوربہترین معافی:
(7178)…حضرتِ سیِّدُناسعیدبن سُوَیدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نےہمیں جمعہ  پڑھایاپھرتشریف فرماہوئے۔آپ نےایسی قمیص  پہن رکھی تھی جس  کےگریبان پر آگے اورپیچھےپیوند لگے ہوئے تھے ۔ایک شخص نے کہا:اے امیرالمؤمنین!اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے آپ کو بہت کچھ عطاکیاہے،آپ اچھالباس کیوں نہیں پہنتے؟آپ نےکچھ دیرسرجھکائےرکھاپھرسراٹھاکرفرمایا:بہترین مِیانہ روی مال داری کی حالت میں ہوتی ہے اور بہترین مُعافی وہ ہے جو بدلہ لینے پرقادر ہونے کے باوُجود ہو۔
خلیفَۂ وقت کی بیٹی کالباس:
(7179)…حضرتِ سیِّدُناقُربان بن دَبیق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں:میں امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عُمَربن عبدالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزخدمت میں حاضرتھاکہ قریب سےآپ کی امینہ نامی بچی گزری توآپ نے اسے