میرےخواب میں آیاتومجھےڈرادھمکاکرکہاتومیں حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کی طرف روانہ ہوااوران کی خدمت میں حاضرہوکرساراواقعہ بیان کیا۔آپ نے مجھ سے پوچھا:تمہارا نام کیا ہے؟ کہاں کے رہنے والے ہو؟تمہاراگھرکہاں ہے؟میں نےصرف اتناکہا:میں خُراسان کا رہنےوالا ہوں۔پوچھا:جہاں تم رہتے ہووہاں کا گورنرکون ہے؟تمہارے وہاں دوست اوردشمن کون ہیں؟ انہوں نے مجھ سے نرمی سے پوچھا پھرمیرے نہ بتانے پرانہوں نے مجھے چار ماہ اپنے ہاں روکے رکھا۔میں نے آپ کےغلام حضرتِ سیِّدُنا مُزاحِمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے عرض کی تو اس نے کہا:امیرالمؤمنین نے تمہارافیصلہ لکھ دیا ہے۔چنانچہ حضرتِ سیِّدُناعُمَر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزنےکچھ عرصےبعدمجھے بلاکرفرمایا: میں نے تمہارا فیصلہ کر دیا ہے کیونکہ ہم نے تمہارے بارے میں مکمل تحقیقات کروائی ہیں جوتم نےاپنےدوستوں اوردشمنوں کے متعلق چھپائی تھیں۔آؤ! مجھ سے اطاعت وفرمانبرداری اور عدل وانصاف پربیعت کرواگرتم نےان سب پرعمل چھوڑاتوبیعت ٹوٹ جائےگی۔یہ سن کرمیں نےبیعت کرلی۔آپ نے فرمایا:تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہے؟میں نےکہا: نہیں، میں مال دار ہوں میں توصرف بیعت کےلئے آیا تھا۔پھر میں نے رخصت کی اجازت چاہی اورلوٹ آیا۔
خوفِ خدا:
(7157)…حضرتِ سیِّدُناابواَعْیَنرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں:میں حضرتِ سیِّدُناخالدبن یزیدبن مُعاویہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکےہمراہ بیْتُ المقدس کےصحن میں تھاکہ اچانک ایک نوجوان نےآکرانہیں سلام کیا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاس کی طرف متوجہ ہوئےتواس نےپوچھا:کیاہم پرکوئی نگران ہے؟میں نےفوراً کہا:ہاں تم دونوں پراللہ عَزَّ وَجَلَّکی جانب سےسنتادیکھتانِگران مُقَرَّرہے۔یہ سُن کراس نوجوان کےآنسوبہہ پڑےوہ حضرتِ سیِّدُناخالدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِدسےہاٹھ چھڑاکرچلاگیا۔میں نےحضرتِ سیِّدُناخالدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِدسےپوچھا:یہ کون تھا؟انہوں نےتعجب سے کہا:کیا تم اسےنہیں جانتے؟یہ امیرالمؤمنین کےبھائی عُمَربن عبدالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز ہیں۔اگر تمہاری عُمَردراز ہوئی تو تم اسے ہدایت یافتہ اما م دیکھو گے۔
خلافت سے پہلے خلیفہ ہونے کی خبر:
(7158)…حضرتِ سیِّدُناحبیب بن ہنداَسلمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا سعیدبن