میں دودھ دوہتا تھا۔ایک بارمیں کسی چرواہےکےپاس سےگزراجس کےریوڑمیں تقریباً30بھیڑیئےتھےچونکہ میں نے پہلےکبھی بھیڑیئےدیکھےنہیں تھےتومیں سمجھاکہ یہ کتے ہیں،میں نےچرواہےسے پوچھا:اتنےکتوں کا آپ کیاکریں گے؟چرواہےنےکہا:بیٹا!یہ کتےنہیں بلکہ بھیڑیئےہیں۔میں نے کہا:سُبْحٰنَاللہ!بکری کےریوڑ میں بھیڑ یا ہواورریوڑکونقصان نہ پہنچائےیہ کیسےممکن ہے؟چرواہےنےکہا:بیٹا!جب سردرست ہوتوپوراجسم نقصان سےمحفوظ رہتا ہے۔یہ واقعہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبدالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکے دورِ خلافت کاہے۔
(7154)…حضرتِ سیِّدُنامالک بن دینارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتےہیں:حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکوجب خلیفہ بنایاگیاتوچرواہوں نےکہا:یہ نیک شخص کون ہےجولوگوں پرمُقَرَّرہواہے؟ان سےپوچھاگیا:تمہیں ان کے نیک ہونے کا علم کیسے ہوا؟انہوں نے کہا:یہ انصاف پسند حاکم جب سے لوگوں پر مقرر ہوا ہےبھیڑیوں نے ہماری بکریوں کا پیچھا چھوڑ دیا ہے۔
(7155)…حضرتِ سیِّدُناموسٰی بن اَعْیَنرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ میں حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکے دورِ خلافت میں کَرْمان کے علاقے میں بکریاں چرایا کرتا تھا۔بکریاں بھیڑیوں کے ساتھ چر رہی ہوتیں ۔ایک رات کسی بھیڑیئے نے بکری پر حملہ کردیاتو میں نے کہا:میرے خیال میں اس نیک شخص کاوصال ہوگیا۔
حضرتِ سیِّدُناحَمّادعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَادفرماتےہیں:مجھےحضرتِ موسٰی بن اعینرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ یا کسی اور نے بتایاکہ انہوں نے جب حساب لگایاتو یہ وہی رات تھی جس میں حضرت سیِّدُناعُمَربن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کا وصال ہواتھا۔
ایکخُراسانی کی بیعت:
(7156)…ولید بن ہِشام کابیان ہے:ہمیں خبر ملی کہ خُراسان کے ایک شخص نے خواب میں کسی کویہ کہتے سناکہ’’جب مروان کے خاندان کاپیشانی پر زخم والاشخص خلیفہ بنے تو تم جاکر اس کےہاتھ پر بیعت کرنا کیونکہ وہ انصاف پسند خلیفہ ہوگا۔“لہٰذاجب بھی کوئی خلیفہ بنتا میں اس کے بارے میں پوچھا کرتا حتّٰی کہ حضرتِ سیِّدُنا عُمَربن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز خلیفہ بن گئے تو وہ شخص تین بار میرے خواب میں آیااور آخری مرتبہ