حضرت سَیِّدُناعُمَر بن عبدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز
ہمارے آقاومولا حضرتِ سیِّدُناعُمَر بن عبدالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز بھی شامی تابعین کرام میں سےہیں۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہپاکباز، گناہوں سے بچنے والے،بہت فکرمند اورمُتَحَرِّک رہنے والے تھے۔
آپ کی خصوصیات:
حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز اپنے وقت میں امت ِمحمدیہ کے واحد ویکتا صاحب فضل ہستی تھے اور عدل وانصاف میں اُموی خاندان کی سب سے ممتازشخصیت کے حامل تھے۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہپاک دامن،عبادت گزار،گناہوں سےبازرہنےاورخوف ووَرَع والے تھے۔اُخْرَوی زندگی نے آپ کو فانی دنیاسے بے نیازکررکھاتھا اورعدل وانصاف قائم کرنے میں آپ ملامت کرنے والوں کی ملامت کی پروا نہیں کرتے تھے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ رعایا کےلئےامن وامان کا باعث اورمخالفین کے لئے دلیل وبُرہان تھے۔آپ کی گفتگو کااندازعالمانہ اورسمجھانے کا اندازحکیمانہ تھا۔
عُلَمائےتصوف فرماتےہیں:قربِ خداوندی کےحصول کےلئےآگےبڑھنے،بلندرُتبہ پانےکےلئے عُیُوب سےدوررہنےاورگھٹیاکوچھوڑکرعُمدہ کی طرف بڑھنےکانام تَصَوُّف ہے۔
بنوا ُمَیَّہ میں عمدہ کردار کے حامل:
(7148)…حضرتِ سیِّدُناامام محمدباقِرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَافِرسےحضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبدالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کےبارےمیں پوچھاکیاگیاتوفرمایا:کیاتم نہیں جانتےکہ ہرقوم میں عمدہ کردارکاحامل ایک شخص ہوتاہےبنواُمیہ کےوہ شخص عُمَر بن عبدالعزیز ہیں جوبروزِ قیامت ایک جماعت کی صورت میں اٹھائے جائیں گے۔
(7149)…حضرتِ سیِّدُنانافعرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں:میں حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عُمْررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکواکثریہ فرماتےسنتا:اے کاش!میں یہ جان لوں اولادِ عُمْر میں سے وہ کون ساشخص ہے جس کےچہرے پر ایک نشا ن ہوگاجو زمین کو عدل سےبھر دے گا۔
(7150)…حضرتِ سیِّدُناوہب بنمُنَبِّہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں:اگراس اُمَّت کا(اس وقت)کوئی مہدی ہوتا تو وہ امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعُمَر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز ہوتے۔