فضائِلِ قُرآن بزبانِ مصطفٰے:
(7146)…حضرتِ سیِّدُنامُعاذبن جبلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتےہیں کہ حضورنبی رحمت،شفیْعِ اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےایک دن فتنوں اور ان کی سختی وشدت کاذکرکیاتوحضرتِ سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نےعرض کی:یارسولَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اِن سےبچنےکاراستہ کیاہے؟ارشادفرمایا: قرآنِ کریم جس میں تمہارے اگلوں اورپچھلوں کی خبریں ہیں اوریہ تمہارے درمیان قولِ فیصل ہے۔ جو ظالِم اسےچھوڑدےگااللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے تباہ وبربادکردےگااورجوہدایت کےلئے(اسلام کےسوا)دوسری راہ اختیار کرے گا اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے گمراہ کر دے گا۔ قرآن کریماللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مضبوط رسی، حکمت والا ذکراور سیدھی راہ ہے۔یہی وہ کلام ہے کہ جب اسے جنات نے سنا توپکاراٹھے:
اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًا ۙ﴿۱﴾ یَّہۡدِیۡۤ اِلَی الرُّشْدِفَاٰمَنَّا بِہٖ ؕ (پ۲۹،الجن:۱، ۲)
ترجمۂ کنز الایمان:ہم نے ایک عجیب قرآن سناکہ بھلائی کی راہ بتاتا ہے تو ہم اس پر ایمان لائے۔
قرآن ہی وہ کلام ہے جس سے دوسری زبانیں مُشْتَبَہ نہیں ہوتیں (1)اوریہی وہ کلام ہے جسے بار بار پڑھنے سے دل اُ کتاہٹ کا شکار نہیں ہوتا۔(2)
مسلمان کی عیادت کی فضیلت:
(7147)…حضرتِ سیِّدُناابودَرْداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسےمروی ہےکہ سرکارِ مدینہ، راحَتِ قلب و سینہ صَلَّی للہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:جب کوئی شخص اپنے بھائی کی عیادت کےلئےجاتاہےتوکمرتک رحمَتِ الٰہی میں ڈوباہوتا ہے اور جب مریض کے پاس ٹھیک طرح سے بیٹھ جاتاہے تو اسے رحمت ڈھانپ لیتی ہے۔(3)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…قرآنِ مجید کی عبارت دوسرے کلاموں سے ایسی ممتاز ہے کہ دوسرا عربی کلام خواہ کتنا ہی فصیح و بلیغ ہو اس سے خلط نہیں ہوسکتا۔مخلوق کا کلام خالق کے کلام سے مشتبہ نہیں ہوسکتایا اس جملہ کے معنیٰ یہ ہیں کہ یہ کلام مسلمانوں کی زبان پر گِراں نہیں پڑتا۔آسانی سے پڑھ لیاجاتاہے بلکہ حفظ کرلیا جاتاہے۔(مراٰۃ المناجیح،۳/ ۲۴۰)
2…ترمذی،کتاب فضائل القراٰن،باب ماجاء فی فضل القراٰن،۴/ ۴۱۴،حدیث:۲۹۱۵……معجم کبیر،۲۰/ ۸۴،حدیث:۱۶۰
3…مسند ابی یعلٰی،ثابت البنانی عن انس،۳/ ۲۱۷، حدیث:۳۴۱۶