رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں:حکمت کہتی ہےکہ اےابنِ آدم!تُومجھے تلاش کرتا ہےحالانکہ تُومجھےدو باتوں کے ذریعے حاصل کرسکتا ہے:(۱)…خیرکی جوبات تجھے معلوم ہےاس پرعمل کر اور(۲)…بُرائی کی جوبات تجھے معلوم ہےاسے ترک کر۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی شانِ رحیمی:
(7136)…حضرتِ سیِّدُناسعیدبن عبدالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُنایُونُس بن مَیسرہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں:لوحِ محفوظ میں(ربّعَزَّ وَجَلَّکایہ فرمان)تحریرہے:میںاللہہوں،میرےسوا کوئی معبودنہیں اورمیں رحمٰن اوررحیم ہوں۔میں معاف کرتااوررحم کرتاہوں اورمیری رحمت میرے غضب پرحاوی اور میرا عفوودرگزر سزا پر سبقت رکھتا ہے۔جو شریعت کے330راستوں میں سےکسی ایک راستےسےبھی آئے میں اُسےاپنی جنت میں داخلےکی اجازت دیتا ہوں۔
(7137)…حضرتِ سیِّدُناعبدالرحمٰن بن ولیدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْدبیان کرتےہیں:میں نےحضرتِ سیِّدُنا یونُس بن مَیْسرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کوبوقْتِ وصال یہ شعر پڑھتے سنا:
ذَهَبَ الرِّجَالُ الصَّالِحُوْنَ وَاُخِّرَتْ نَـتْنُ الرِّجَالِ لِذَا الزَّمَانُ الْمُنْتِن
ترجمہ: یعنی نیک لوگ چلےگئےاوربدبوداررہ گئےاسی وجہ سے زمانہ بدبودار ہوگیا۔
قبروالوں سے کلام:
(7138)…حضرتِ سیِّدُناعَمْروبن واقدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِدحضرتِ سیِّدُنایونُس بن مَیسرہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے متعلق بیان کرتےہیں کہ آپ ایک مرتبہ جمعہ کےدن صبح سویرےدِمَشق کےقبرستان سےگزررہےتھےکہ کسی کو یہ کہتے سنا:یہ یونُس بن مَیسر ہ ہیں جوصبح سویرےآئےہیں،تم لوگ حج کرتے ہو،ہرمہینےعُمْرہ کرتے ہو، روزانہ پانچ نمازیں پڑھتے ہو،تم عمل کرتے ہومگر جانتے نہیں جبکہ ہم جانتے ہیں مگرعمل نہیں کر سکتے۔حضرتِ سیِّدُنا یونُس بن مَیسرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہمتوجہ ہوئےاورسلام کیالیکن کسی نےجواب نہیں دیاتوآپ نےکہا: سُبْحٰنَاللہ!میں نےتمہاری باتیں سنیں اورتمہیں سلام کیا مگر تم نے جواب نہ دیا۔ قبر والوں نے کہا: ہم نے تمہاری باتیں سنیں البتہ سلام کا جواب نیکی ہےاور ہماری نیکیوں اوربرائیوں کےدرمیان اب آڑ ہے۔