اِستخارہ کی تعلیم:
(7127)…حضرتِ سیِّدُناعبداللہبن عُمَراورحضرتِ سیِّدُناعبداللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمابیان کرتے ہیں کہ ہم اِستخارے کاطریقہ اس طرح سیکھتےتھے جیسےہم میں سے کوئی قرآن کی سورت سیکھتاتھا۔(اور دعائے استخارہ یوں کیا کرتے تھے:)اَللّٰهُمَّ اِنِّي اَسْتَخِيْرُكَ وَاَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ فَاِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا اَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا اَعْلَمُ وَاَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ اَللّٰهُمَّ مَا قَضَيْتَ عَلَيَّ مِنْ قَضَاءٍ فَاجْعَلْ عَاقِبَتَهٗ اِلَى خَيْرٍیعنی اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ!میں تجھ سےخیرطلب کرتاہوں اورتیری قدرت کےوسیلےسےتجھ سےقدرت مانگتاہوں۔بےشک توقدرت والاہے اور میں قدرت والا نہیں اورتوسب کچھ جانتاہےمیں نہیں جانتااورتو غیبوں کا جاننے والا ہے۔الٰہی!تونے میری تقدیر میں جوکچھ لکھا ہےاسے اچھے انجام کی طرف پھیر دے۔
تیر اندازی چھوڑ دینا:
(7128)…حضرتِ سیِّدُناسالِم بن عُمَررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسےمروی ہےکہ سرکارِمدینہ،راحَتِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:جس نےتیر اندازی سیکھنےکےبعدچھوڑدی تویہ اس کےحق میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانب سے ایک نعمت تھی جسے اس نے چھوڑ دیا(1)۔(2)
(7129)…حضرتِ سیِّدُناابودَرْداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ مصطفٰےجانِ رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےاس آیتِ مقدسہ:
اصْبِرُوۡا وَصَابِرُوۡا وَرَابِطُوۡا ۟ (پ۴،اٰل عمرآن:۲۰۰)
ترجمۂ کنز الایمان:صبرکرو اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہو اور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو۔
کی تفسیرمیں ارشادفرمایا:پنج وقتہ نماز کے پابند رہو،تلوار کے ذریعے دشمنوں سے لڑتے وقت صبرمیں آگے رہو اورراہِ خدامیں سرحدپر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…ایسا شخص نعمت کی ناقدری اور ناشکری کا مرتکب ہونے کے سبب گناہ گار ہوگا۔(ماخوذ ازمراٰۃ المناجیح،۵/ ۴۷۳)
2…ابو داود،کتاب الجھاد،باب فی الرمی،۳/ ۱۹،حدیث:۲۵۱۳،عن اعقبة بن عامر