صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے(قربِ قیامت کاتذکرہ کرتےہوئے)ارشادفرمایا:یہ وہ وقت ہوگاجب لوگوں سے علم اٹھالیاجائےگا۔حضرتِ سیِّدُنازِیادبن لَبِیْداَنصاریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےعرض کی:یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم!علم کیسےاٹھالیاجائےگا؟حالانکہ ہمارےدرمیان قرآنِ کریم موجودہےجسےہم سیکھتےہیں اوراپنے بچوں کو سکھاتےہیں اورہماری اولاداپنےبچوں کوسکھائےگی۔ارشادفرمایا:اےاِبْنِ لَبِیْد!میں توتمہیں مدینے کےسمجھدار لوگوں میں گمان کرتاتھا،کیا یہودونصارٰی کے پاس توریت وانجیل نہیں تھیں؟کیاوہ گمراہ ہونے سے بچے؟
حضرتِ سیِّدُناجُبیربن نُفیررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں:ایک بارمیری ملاقات حضرتِ سیِّدُنا شدادبن اوسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے ہوئی،میں نےانہیں یہی حدیث سنائی توفرمانے لگے:حضرت عوف بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےتمہیں یہ نہیں بتایاکہ علم کیسےاٹھالیاجائےگا؟میں نے نفی میں جواب دیا تو فرمایا:عُلَماکی وفات کے ذریعےعلم اُٹھالیاجائےگااورسب سےپہلےخشوع اُٹھایاجائےگاحتّٰی کہ تم کسی کوخشوع وخضوع والانہ پاؤگے۔(1)
شہرت لغزش کا مقام ہے:
(7123)…حضرتِ سیِّدُناعمران بن حُصَیْنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسےمروی ہے کہ رحمَتِ عالَم،نُوْرِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا:کسی شخص کے گناہ میں پڑنےکےلئےاتناہی کافی ہےکہ اس کی طرف انگلیوں سے اشارہ کیا جائے۔صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننےعرض کی:یارسولَاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اگرچہ وہ نیک ہو؟ارشادفرمایا:اگر چہ وہ نیک ہوکیونکہ یہ لغزش کامقام ہےمگریہ کہ جسےاللہ عَزَّ وَجَلَّمحفوظ رکھے(2)اور اگر وہ بُراہوتو یہ اس کے لئےبُرا ہی ہے۔(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مسندامام احمد،مسند الانصار،حدیث عوف بن مالک الاشجعی،۹/ ۲۶۰،حدیث:۲۴۰۴۵
تاریخ ابن عساکر،۶۵/ ۲۲۰،حدیث:۱۳۲۴۹،الرقم:۸۲۸۸،ابو شجرة يزيد بن شجرة الرهاوی
2…مُفَسِّرشہیر،حکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیمراٰۃ المناجیح،جلد7، صفحہ136پراس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:دنیاوی کمالات دولت،صحت،طاقت میں یوں ہی دینی کمالات علم،عبادت،ریاضت میں مشہور ہونا عوام کےلیےخطرناک ہی ہےکہ اس سےعمومًادل میں غرورتکبرپیدا ہوجاتے ہیں اس سے گمنامی اچھی چیز ہے ۔بعض بندےایسے بھی ہیں کہ وہ شہرت سے متکبِّر نہیں ہوتے وہ سمجھتےہیں کہ نیک نامی وبدنامیاللہ(عَزَّ وَجَلَّ) کے قبضہ میں ہے اورلوگوں کا کوئی اعتبار نہیں،انہیں زندہ باد اور مردہ باد کے نعرے لگاتے دیر نہیں لگتی۔
3…شعب الايمان،باب فی اخلاص العمل للّٰہ،۵/ ۳۶۷،حدیث:۶۹۷۹