Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
319 - 531
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوارشادفرماتےسنا:اللہ عَزَّوَجَلَّنےحضرتِ داؤدعَلَیْہِ السَّلَام کو حکم ارشادفرمایا:زمین میں میراگھربناؤ۔حضرتِ داؤدعَلَیْہِ السَّلَامنے مسجدکی تعمیرسےپہلےاپناگھربنایاتواللہ عَزَّ  وَجَلَّنےارشادفرمایا:اےداؤد! تم نےمیرےگھرسے پہلےاپنےلئےگھرتعمیرکرلیا؟آپ نےعرض کی:اےربعَزَّ  وَجَلَّ!تو نےہی  کہا ہے :جو بادشاہ بنا اُس نےخودکوترجیح دی۔اس کےبعدحضرتِ داؤدعَلَیْہِ السَّلَامنےمسجد کی تعمیر شروع کردی،جب دیواریں پوری  ہوگئیں تو اس کاتہائی حصہ گر گیا۔آپ نے بارگاہ ِ الٰہی میں اس کےمتعلق عرض کی تواللہ عَزَّ وَجَلَّ نےوحی فرمائی:تم میراگھرنہیں بناسکتے۔عرض کی:اےربعَزَّ  وَجَلَّ!کیوں؟ارشادفرمایا: تمہارے ہاتھوں خون بہا ہے۔عرض کی:کیا یہ سب تیری رضاو محبت کی خاطرنہیں تھا؟ارشادفرمایا:ضرور تھا لیکن وہ  میرے بندے تھےاورمیں اُن پررحم کرتا ہوں۔حضرت داؤدعَلَیْہِ السَّلَام یہ سن کرغمگین ہوئےتواللہ عَزَّ  وَجَلَّنےوحی فرمائی: غمگین مت ہو،میں عنقریب مسجدکی تعمیرتمہارےبیٹےسلیمان سےکرواؤں گا۔ چنانچہ جب حضرت داؤدعَلَیْہِ السَّلَامنےوصال ظاہری فرمایاتوحضرت سلیمانعَلَیْہِ السَّلَامنےمسجدکی تعمیرشروع کردی۔جب مسجدکی تعمیر مکمل ہوگئی تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام نےقربانی کےطورپربہت سےجانورذبح کئے پھر بنی اسرائیل کوجمع کیاتواللہ عَزَّ  وَجَلَّ نےوحی فرمائی :میری عبادت  کے لئے گھرتعمیر کرنے پر تمہاری خوشی میں دیکھ رہا ہوں، لہٰذاتم جو مانگو گے تمہیں دیاجائے گا۔عرض کی:میں تجھ سےتین چیزیں مانگتا ہوں:(۱)…ایسافیصلہ جو تیرےفیصلےکےمطابق ہو (۲)…ایسی بادشاہت جومیرےبعدکسی کونہ ملےاور(۳)…جوخالص نمازکی نیت سےاس مسجدمیں آئےوہ گناہوں سےایساپاک ہوجائےجیسااس دن تھاجس دن پیداہواتھا۔رسولِ کریمصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:ان میں سےدوچیزیں تواللہ عَزَّ  وَجَلَّنےانہیں عطافرمادیں اورمجھےاُمیدہےکہ تیسری بھی عطاکردی گئی ہے(1)۔(2)
قیامت کی ایک نشانی:
(7122)…حضرتِ سیِّدُناعوف بن مالک اَشْجَعیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتےہیں کہ حضورنبی اکرم،نُوْرِمُجَسَّم 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…اس حدیث کی سندمیں ایک راوی محمدبن ایوب بن سُوَیْدمُتَّہِمْ بِالْوَضَع ہے۔سیِّدُناامام ذہبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی’’مِیْزَانُ الْاِعْتِدَال‘‘میں اس روایت کومحمدبن ایوب رملی کی موضوعات سےذکرکرتےہیں۔ (میزان الاعتدال،۱/ ۴۵۷)
2…معجم کبیر،۵/ ۲۴،حدیث:۴۴۷۷