نےکہا:اےخلیفہ!آپ کی رائےجوبھی ہےاس پراللہ عَزَّ وَجَلَّآپ کوجزائےخیرعطافرمائے،اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جزا ہی کافی ہے۔جہاں تک میری بات ہے تومیں خراج وصول کرنا جانتا ہوں نہ اس کی طاقت رکھتاہوں۔ یہ سن کروہ غصے میں آگیا حتّٰی کہ اس کاجسم کانپنےلگااورچونکہ وہ بھینگا تھاتو مجھے اپنی بھینگی آنکھوں سے گھورنے لگااور مجھ سے کہا:تمہیں یہ پیشکش مجبوری یاخوشی ہر صورت قبول کرنی ہوگی۔میں خاموش ہوگیا یہاں تک کہ جب اس کاغصہ ٹھنڈا ہوگیا تو میں نے کہا:اےخلیفہ!اگراجازت ہوتو کچھ عرض کروں؟اس نے اجازت دی تو میں نےکہا:اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآن پاک میں ارشادفرماتا ہے:
اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیۡنَ اَنۡ یَّحْمِلْنَہَا (پ۲۲،الاحزاب:۷۲)
ترجمۂ کنز الایمان:بےشک ہم نے امانت پیش فرمائی آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر تو اُنھوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا۔
توجب ان کےانکارپراللہعَزَّ وَجَلَّنےان پرغضب نہیں فرمایاتوپھرمیرےانکارپرآپ کیوں ناراض ہو رہے ہیں ۔یہ سن کر وہ زور سے ہنسا اورکہا:اے ابراہیم!تم نے بڑی سمجھداری سے انکار کیا،ہم تم سے خوش ہیں اورہم نے تمہیں مُعافی دی۔
چاندی کے پیالے عُلَما میں تقسیم:
(7112)…حضرتِ سیِّدُناضَمْرہبن ربیعہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں:میں نےحضرتِ سیِّدُناابراہیم بن ابوعَبْلہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکوفرماتےسنا:اللہ عَزَّ وَجَلَّولیدبن عبدالملک پررحم فرمائے!اب ولیدجیساخلیفہ کہاں ملےگا؟ولیدبن عبدالملک نےدِمَشق کےگِرجاکوتوڑکرمسجدبنوائی،اللہ عَزَّ وَجَلَّ ولید بن عبدالملک پررحم فرمائے!اب ولیدجیساخلیفہ کہاں ملےگا؟اللہ عَزَّ وَجَلَّ ولیدبن عبْدُالملک پر رحم فرمائے!اس نےہنداوراَنْدَلُس کو فتح کیا۔ولیدبن عبدالملک مجھےچاندی کےپیالےدیاکرتاتھاتاکہ میں انہیں مسجدِاقصیٰ کےعُلَمامیں تقسیم کروں۔
(7113)…حضرتِ سیِّدُناضَمْرہبن ربیعہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناابراہیم بن ابوعَبْلہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں:ولیدبن عبدالملک میرےپاس بَیْتُ الْمَقْدِس والوں کے لئےچاندی کے پیالے بھیجا کرتااورمیں اِنہیں تقسیم کرتا۔
(7114)…حضرتِ سیِّدُنابَـقِیَّہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناابراہیم بن ابوعَبْلہرَحْمَۃُ اللہِ