حضرتِ سیِّدُنا اِبراہِیْم بن اَبُو عَبْلہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
حضرتِ سیِّدُناابراہیم بن ابوعَبْلہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبھی شامی تابعین کرام میں سےہیں۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہامانت داراورقاریِ قرآن تھے،علم وقراءت میں عام مقبولیت رکھتےتھے،انتہائی فصیح وبلیغ پُرتاثیر وعظ ونصیحت کرنے والے تھے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ان پر رحمت ہو۔
(7108)…حضرتِ سیِّدُناضَمْرَہبن ربیعہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناابراہیم بن ابوعَبْلہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں:جب(اُمَوی خلیفہ)ولیدبن عبدالملک ہمارے ہاں آیاتومجھےوعظ کاحکم دیا۔میں نے وعظ کیا تو حضرتِ سیِّدُناعُمَر بن عبدالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نے مجھ سے ملاقات کی اورکہا:اے ابراہیم!تم نے ایسی وعظ ونصیحت کی ہے جس نے دلوں پر اثر کیا۔
سات یاتین دن میں ختم قرآن:
(7109)…حضرتِ سیِّدُناضَمْرَہبن ربیعہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناابراہیم بن ابوعَبْلہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مجھےیہ بات بتائی کہ مجھ سےولید بن عبدالملک نے پوچھا:تم کتنے دنوں میں قرآنِ پاک ختم کرتےہو؟میں نےاُنہیں بتایاتوانہوں نے(اپنےبارےمیں)کہا:امیرالمؤمنین اپنی مصروفیت کے باوجود سات یاتین دن میں ختم کرلیتےہیں۔
(7110)… حضرتِ سیِّدُنا رَجاء بن ابوسَلَمہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ عَمْروبن ولیدنےکسی شخص سےحضرتِ سیِّدُناابراہیم بن ابوعَبْلہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکےمتعلق پوچھا۔اس نےآپ کے حالات بتائےتوعَمْرو بن ولید نے کہا:میں حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن ابوعبلہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے زیادہ خوشگوار شخص کونہیں جانتا۔
حکومتی عہدہ لینےسے انکار کردیا:
(7111)…حضرتِ سیِّدُناابوہانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی بیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناابراہیم بن ابوعَبْلہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتےہیں:ہشام بن عبد الملک نے مجھے اپنے پاس بلواکر کہا:اےابراہیم!ہم تمہیں بچپن سے جانتے ہیں اور بڑی عُمَر میں تمہیں آزما بھی چکے ہیں، تمہاری سیرت ومعاملات سے خوش بھی ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ تمہیں اپنامُقَرَّب اور اپنے کاموں میں شریک بنالوں لہٰذا میں تمہیں مِصر کےخِراج پر مقرر کرتا ہوں۔ میں