Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
313 - 531
ملاتواس نے کہا:ابویوسُف کوبھیجو تاکہ وہ خوداپناحق لیں۔میں نے حضرتِ سیِّدُنا یزید بن میسرہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو مسجدسےبلایاتوآپ آکرگرجےکےستون کے پاس بیٹھ گئےاوراپنے قرض خواہ سےکہا:مجھےمیراحق دو۔قرض خواہ نے کہا:قاضی کوبلاؤ۔آپ نے کہا:کیوں؟اس نے کہا:میں آپ کافیصلہ قاضی سےکرواناچاہتاہوں۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا:مجھےمیراحق دوورنہ چلےجاؤ۔حضرتِ سیِّدُناابوراشد رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکہتےہیں:میں نےکہا:جناب!قاضی کوبلالیجئےتاکہ آپ کوآپ کاحق مل جائے۔فرمایا:اس بات کی کیا ضمانت ہےکہ قاضی مجھ سےایسی کوئی بات نہیں کرےگاجومجھےناپسندہوحالانکہ فیصلہ ہونے کےبعداس پرراضی ہونےکےبارےمیںاللہ عَزَّوَجَلَّارشادفرماچکا: فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوۡنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوۡکَ فِیۡمَا شَجَرَ بَیۡنَہُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوۡا فِیۡۤ اَنفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیۡتَ وَیُسَلِّمُوۡا تَسْلِیۡمًا ﴿۶۵﴾ (1)۔
وصال سے قبل سب مال خیرات کردیا:
(7103)…حضرتِ سیِّدُنایحییٰ بن جابرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَافِربیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُنایزیدبن میسرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےعباس بن ولید سے اپنے سرکاری وظیفے کوختم کرکے ایک رجسٹر میں لکھ دینے کامطالبہ کیااور اپنی تمام ملکیت حتّٰی کہ رہائشی مکان بھی فروخت کرکےصدقہ کردیا۔پھربارگارہِ الٰہی میں عرض کی:”اے اللہعَزَّ  وَجَلَّ!میں تیری بارگاہ میں کوئی عذرپیش نہیں کرسکتا،میری روح جلد قبض فرمالے۔“حضرتِ سیِّدُنا یحییٰ بن جابرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَافِرفرماتے  ہیں:اس کے بعد وہ کچھ عرصہ ہی زندہ  رہے پھر وصال فرماگئے۔
بلا عمل  جنت میں داخل ہونے والے:
(7104)…حضرتِ سیِّدُناعبدالرحمٰن بن عَدِی بَہرانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیسےمروی ہےکہ حضرتِ سیِّدُنایزید بن میسرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں:اللہعَزَّ  وَجَلَّارشادفرماتاہے:تم بغیراطاعت کےجنت میں داخل ہونے کاانکارکرتے ہو ،میں ضرورجنت کاایک حصہ اپنی اس مخلوق سے بھروں گاجنہوں نے دن رات میں کبھی کوئی عمل نہیں کیاہوگااوروہ مؤمنین کی اولادہو گی۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…ترجمۂ کنز الایمان:تواےمحبوب تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنےآپس کےجھگڑےمیں تمہیں حاکم نہ بنائیں پھرجوکچھ تم حکم فرمادواپنےدلوں میں اس سےرُکاوٹ نہ پائیں اورجی سےمان لیں۔(پ۵،النساء:۶۵)