ایک غافل دنیادار اور مال کا مکالمہ:
(7098)…حضرتِ سیِّدُنا شُرَیْح بن عُبَیْدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا یزید بن میسرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں:گزشتہ زمانے میں ایک شخص نے مختلف قسم کا بہت سا مال جمع کیا اور اس کی اولاد بھی کافی ہوئی پھر اس نے ایک محل تعمیر کیا جس کےدومضبوط دروازے بنائے اور اپنے غلاموں میں سے کچھ کوان پرنگہبان مقرر کیا۔ایک بار گھر والوں کوجمع کر کےاِن کےلئےکھانابنوایا،گھروالےکھاناکھارہے تھےاوریہ ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پررکھےتخت پربیٹھاتھا۔گھروالےکھا پی کرفارغ ہوئے تو خودکومخاطب کرکےکہنے لگا:”عیش کرتیرے لئے کافی کچھ مدتوں کے لئے جمع کردیاگیاہے۔“ابھی اس کی گفتگوجاری ہی تھی کہ حضرتِ سیِّدُناملَکُ الموتعَلَیْہِ السَّلَامایک آدمی کی شکل میں گلےمیں مسکینوں جیساکشکول ڈالےاور دوبوسیدہ کپڑوں میں ملبوس اس کی طرف متوجہ ہوئےاور اس کے دروزاے کو اتنی زور سے دستک دی کہ وہ شخص گھبراگیا ۔اس کےغلام حضرتِ سیِّدُنا ملَکُ الموت عَلَیْہِ السَّلَام کی طرف بڑھےاورپوچھا:تم کون ہو اور کیوں آئے ہو؟ملَکُ الموتعَلَیْہِ السَّلَامنےفرمایا:اپنےآقاکومیرےپاس بلاؤ۔غلاموں نےکہا:ہماراآقااور تمہارے پاس آئے؟ملَکُ الموتعَلَیْہِ السَّلَامنےفرمایا:ہاں!اسے میرے پاس بلاؤ۔اتنے میں ان کےآقانے پیغام بھیجاکہ یہ دروازے پرکون ہے؟ غلاموں نے شکل وصورت بیان کی تو اس نے کہا:تم نےاسے بھگاکیوں نہ دیا ؟سب نے کہا:ہم نے کوشش کی تھی ۔ وہ شخص اپنی جگہ ہی پر تھا کہ حضرتِ سیِّدُنا ملَکُ الموت عَلَیْہِ السَّلَام نےدوبارہ پہلےسےزیادہ زورسےدستک دی۔غلام ملَکُ الموتعَلَیْہِ السَّلَامکی طرف لپکےاورکہا:تم پھرآگئے؟ فرمایا:ہاں!اپنےآقاکوبلاؤاوراُسےکہوکہ موت کافرشتہ آیاہے۔جب غلاموں نے یہ سناتوان پررُعب طاری ہوگیا اور انہوں نے اپنے آقاکوملَکُ الموت عَلَیْہِ السَّلَام کی باتیں جاکر بتائیں۔ اس نے کہا:تم ان سے نرمی سے بات کرواوریہ پوچھو کیامیرے ساتھ کسی اورکوبھی موت دینی ہے؟غلاموں نے حضرتِ سیِّدُناملَکُ الموت عَلَیْہِ السَّلَامکےپاس جاکراس کی خبردی توآپ آقا کے پاس چلے گئے اوراس سے فرمایا:اٹھ جااوراپنے مال کے معاملے میں جوکرنا ہے کرلے کیونکہ میں یہاں سے تیری روح قبض کرنے کے بعد ہی جاؤں گا۔اس نے مال ودولت کوسامنے رکھوایااوردیکھ کرکہنے لگا:تجھ پراللہ عَزَّ وَجَلَّ کی لعنت ہو،تو نے مجھے رب عَزَّ وَجَلَّکی عبادت سے