Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
310 - 531
 سب تونے  مجھ سے لےکرمیرے دل کوان کی فکروں سےآزادکردیا۔اب میرےاورتیرےدرمیان کوئی چیزحائل نہیں۔ وہ کون ہے کہ جسےتومال واولادعطاکرےاوریہ اُسے تیری یادسے غافل نہ کریں؟ تیراجتنا مجھ پراحسان ہے اگر اسے میرادشمن ابلیس جان جائےتو وہ مجھ پر حسد کرنے لگے۔“ اس قول سے ابلیس کو سخت تکلیف پہنچی۔
سیِّدُنا ابنِ میسرہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکے چھ انمول فرامین:
(7096)…(۱)…جب کوئی شخص منہ پرتمہاری تعریف کرےتواسےتسلیم نہ کروبلکہ غصےکےساتھ ناپسندیدگی کااظہارکرواوردعاکروکہ اےاللہ عَزَّ  وَجَلَّ! جوکچھ لوگ میرے بارےمیں کہتے  ہیں اس  پر میری  پکڑ نہ فرمااور جو کچھ لوگ میرے بارے میں  نہیں جانتےاس کی بخشش فرما۔(۲)…اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کاتم  پر جو حق ہےپہلےاُسےپوراکرواورجوتمہارےلئےمناسب نہیں وہاللہعَزَّ  وَجَلَّسےجاننےکی کوشش مت کرو۔(۳)…اے اللہعَزَّ  وَجَلَّ! ہمارے دلوں میں اپناخوف  پیدافرما،موت کاذکر ہمارے دلوں میں راسخ فرما۔(۴)…اے لوگو! غورکروکہ آج تم  کہاں  ہواورکل کہاں ہوگے؟آج تم گھروں میں باتیں کرتے ہواورکل قبروں میں خاموش پڑےہوگے،شکرگزاراورنیک لوگوں کےلئےخوشخبری ہے۔(۵)…اےغافلو!تم مردوں کوقبرمیں اُتارتے ہواوروہ کہتےجاتے ہیں:”ہلاکت ہوتمہاری،کل تم  بھی ہماری طرح ہو گے۔“(۶)…اے نفس !تونے دنیا میں جو دیکھا اور جو نہیں دیکھا وہ روحوں کی طرح ہے جو چلی جاتی  ہےہیں اور اپنا اثر نہیں چھوڑتیں یاکولُھو کے  بیل کی طرح ہے جو کہ ایک دائرہ کےگرد گھومتا رہتا ہے ۔ 
گناہوں سے پاک صاف:
(7097)…حضرتِ سیِّدُنایحییٰ بن جابرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَافِر بیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُنایزیدبن مَیْسَرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں:آدمی کو کوئی مرض لاحق ہوتاہےاوراللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ میں اس کی کوئی  نیکی  نہیں ہوتی،اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اُسے اُس کے گزشتہ گناہ یاددلاتاہےتو(خوفِ خداسے) اُس کی آنکھوں سے مکھی کے سرکےبرابرآنسوبہہ نکلتاہے۔اب اگراللہ عَزَّ  وَجَلَّ اسےزندہ رکھناچاہتاہے توگناہوں سےپاک صاف کردیتا ہے اوراگرموت دینا چاہتاہےتواسی  حالت میں اُسے وفات دے دیتاہے۔