Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
31 - 531
(6181)…حضرتِ سیِّدُناانس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور رحمتِ عالَم، نورِمجسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو غزوۂ حنین میں ایک دراز گوش(1) پر سوار دیکھا جس کی نکیل کھجور کی چھا ل کی تھی۔
(6182)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دیکھا کہ ایک شخص نے پیشاب کیا اور پھر پانی سے پاکی حاصل کی تو آپ نے فرمایا:ہم ایسا نہیں کرتے۔(2)
(6183)… حضرتِ سیِّدُنابلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے حکم فرمایا کہ میں طلوعِ فجر (یعنی فجر کا وقت شروع ہونے) سے پہلے اذان نہ دیا کروں۔
موزوں پر مسح کی مدّت:
(6184)…حضرتِ سیِّدُنا زِر بن حُبیش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرتِ سیِّدُنا صفوان بن عسَّال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس آئے تو آپ نے پوچھا:”صبح صبح کیسے آنا ہوا؟“حضرتِ سیِّدُنا زر بن حبیش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے عرض کی:”علم حاصل کرنے آیا ہوں۔“انہوں نے فرمایا:”جیسا تم نے کیا ایسا عمل جو بھی  کرتا ہے فرشتے اس کے عمل سے خوش ہوکر اس  کے لئے اپنے پَر بچھادیتے ہیں۔“حضرتِ سیِّدُنا زِر بن حُبیش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی:”میں آپ کے پاس موزوں پر مسح کے بارے میں سوال کرنے کے لئے حاضر ہوا ہوں۔“انہوں نے بتایا کہ میں نے بارگاہ ِرسالت میں عرض کی:کیا موزوں پر مسح کیا جائے گا؟“تو مُعَلِّمِ کائناتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”ہاں! مسافر کے لئے اجازت ہے کہ وہ تین دن پیشاب اور 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
……نہیں۔ ملتقط(اٹھانےوالے)پرتشہیر(اعلان کرنا)لازم ہےیعنی بازاروں اورشارع عام اورمساجدمیں اتنےزمانہ تک اعلان کرے کہ ظن غالب ہوجائے کہ مالک اب تلاش نہ کرتاہوگا۔یہ مدت پوری ہونے کے بعداسے اختیارہے کہ لقطہ کی حفاظت کرے یا کسی مسکین(شرعی فقیر)پرتصدق کردے۔اٹھانےوالااگر(خودشرعی)فقیرہےتومدتِ مذکورہ تک اعلان کےبعدخود اپنے صرف(استعمال)میں بھی لاسکتاہےاورمالدارہےتواپنےرشتہ والےفقیرکودےسکتاہےمثلاًاپنےباپ،ماں،شوہر،زوجہ،  بالغ اولادکودے سکتا ہے۔(بہارشریعت،حصہ۱۰، ۲/ ۴۷۳تا۴۷۶،ملتقطًا)
…فارسی زبان میں دراز گوش ”گدھے“ کوکہتے ہیں۔
2…آگے یا پیچھے سے جب نَجاست نکلے تو ڈھیلوں سے استنجا کرنا سنّت ہے اور اگر صرف پانی ہی سے طہارت کرلی تو بھی جائز ہے مگر مستحب یہ ہے کہ ڈھیلے لینے کے بعد پانی سے طہارت کرے۔(بہار شریعت، حصہ۲، ۱/ ۴۱۰)