Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
304 - 531
میسرہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ۔آپ ان کےپاس گئےاورکہا:’’اللہعَزَّ وَجَلَّآپ پررحم فرمائے!ہمیں نیکی  پراُبھاریئے۔ چنانچہ حضرتِ سیِّدُنایزیدبن میسرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا:علماعلم حاصل کرلیتےہیں تواس پرعمل کرتے ہیں،جب عمل کرتےہیں تومشغول ہوجاتےہیں،مشغول ہوجاتےہیں توغائب ہوجاتےہیں،غائب ہوجاتے ہیں توانہیں تلاش کیاجاتاہے،اگرتلاش کرلیاجائےتوکہیں اورچلےجاتےہیں۔‘‘عرض کی:دوبارہ بیان کیجئے! آپ نےیہی الفاظ دہرادیئے۔پھرحضرتِ سیِّدُناعطاءخُراسانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیتشریف لےگئےاورجاتے وقت خلیفہ ہشام سےملاقات بھی نہیں کی۔
علم کسےسکھایاجائے؟
(7072)…حضرتِ سیِّدُناراشدبن ابوراشدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِدبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُنایزیدبن مَیْسَرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں:جوپوچھتانہیں اس پراپناعلم خرچ نہ کرو،جوموتی چنتانہیں اس پرنچھاورنہ کرو اورجوتمہیں نقصان پہنچائےاس کےسامنےاپنی پونجی مت پھیلاؤ۔
اَسلاف کی دنیاسےنفرت:
(7073)…حضرتِ سیِّدُناابوراشدتَنَوخیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُنایزیدبن میسرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں:اسلافِ کرام دُنیاکودَنِیہ(یعنی گھٹیا)کہاکرتےتھے۔اگرانہیں دنیاکااس سےبھی بُرانام ملتاتووہی رکھ دیتے،اگردنیاان میں سےکسی کی طرف متوجہ ہوتی تووہ کہتے:اےخنزیرنی!ہم سےدور ہوجا!ہمیں تیری کوئی حاجت نہیں!ہمیں اپنےپروردگارعَزَّ  وَجَلَّ  کی معرفت حاصل ہے۔
مسکین کابرتن اوربادشاہ کاتاج:
(7074)…حضرتِ سیِّدُناشُرَیْح بن عُبَیْدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُنایزیدبن مَیْسَرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں:”لالچ“مسکین کےبرتن اوربادشاہ کےتاج کےدرمیان ہوتی ہے۔
(7075)…حضرتِ سیِّدُنایحیی ٰ بن جابرطائیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُنایزیدبن میسرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرمایاکرتےتھے:میں مویشی فروش بنناپسند نہیں کرتا،البتہ مویشی فروش بننامجھےاس بات سے زیادہ پسندہےکہ میں کچھ نہ کچھ  اناج جمع کرکےاسےمسلمانوں کومہنگابیچنےکاانتظارکروں۔