حضرت سیِّدُنایزید بن مَیْسَرہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ
حضرتِ سیِّدُناابویوسف یزیدبن مَیْسَرہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبھی تابعین کرام میں سےہیں۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہپُرتاثیرفصیح وبلیغ وعظ ونصیحت فرمانےوالےاوردرست رائےومشورہ دینےوالےتھے۔
(7070)…حضرتِ سیِّدُنایحییٰ بن جابرطائیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں:حضرتِ سیِّدُناعون بن عبداللہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہہمارے پاس تشریف لائےاورمسجدمیں آکربےمثال وعظ ونصیحت فرمائی پھر پوچھا:کیاتم میں کوئی مریض ہےجس کی ہم عیادت کرسکیں؟ہم نےکہا:حضرتِ سیِّدُنایزیدبن میسرہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیمار ہیں۔چنانچہ ہم سب ان کی عیادت کےلئےگئے،آپ بسترپرلیٹےہوئےتھے،حضرتِ سیِّدُناعون بن عبداللہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےایسی وعظ ونصیحت فرمائی کہ مسجدمیں کی جانےوالی وعظ ونصیحت کوہم بھول گئے،جسے سن کرحضرتِ سیِّدُنایزیدبن میسرہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسیدھےہوکربیٹھ گئےاورفرمایا:’’واہ!بہت خوب!آپ نےتو وسیع وعریض سمندرکاجائزہ لیااوراس سےبڑی نہر نکالی پھراس پربہت سےدرخت لگائے، اگرآپ کے درخت پھل دارہوئےتوآپ کھائیں گےاورکھلائیں گےاوراگرپھل دارنہ ہوئےتوہردرخت کے پیچھےکلہاڑی ہوگی۔‘‘پھرآپ نےحضرتِ سیِّدُناعون بنعبداللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسےپوچھا:پھرکیاہوگا؟ حضرتِ سیِّدُنا عون بنعبداللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےکہا:اس درخت کوکاٹ دیاجائےگا۔پوچھا:پھرکیاہوگا؟کہا:پھراسےآگ میں ڈال دیاجائےگا۔حضرتِ سیِّدُنایزیدبن میسرہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےکہا:یہی اس کاانجام ہے۔
حضرتِ سیِّدُناعُتْبَہ بن ابوحکیم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّحِیْمبیان کرتےہیں:مقامِ واسط میں حضرتِ سیِّدُناعون بن عبداللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسےمیری ملاقات ہوئی توآپ نےفرمایا:میرےدل پرکبھی کسی کی نصیحت نےاتنا اثرنہیں کیاجتناحضرتِ یزیدبن میسرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی نصیحت نےکیا۔
عُلَماکی شان:
(7071)…حضرتِ سیِّدُناامام اوزاعیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعطاءخُراسانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیخلیفہ ہشام کے پاس آئےتوحضرتِ سیِّدُناامام مکْحُولرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسےملاقات کےلئےگئے۔ان سےپوچھا:یہاں کوئی ایساشخص ہےجوہمیں نیک اعمال پراُبھارے؟انہوں نےکہا:ہاں!حضرتِ یزیدبن