عمل سےپہلےنیت پرغورکرو:
(7063)…حضرتِ سیِّدُناضَحّاک بن عبدالرحمٰنعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانبیان کرتےہیں:میں نےحضرتِ سیِّدُنابلال بن سعدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَدکوفرماتےسنا:اےرحمٰنعَزَّ وَجَلَّکےبندو!بعض اوقات بندہاللہ عَزَّ وَجَلَّکےفرض کردہ احکام میں سےصرف ایک پرعمل کرتاہے،اس کےعلاوہ بقیہ فرائض کوضائع کردیتاہے،شیطان مسلسل اسےان خواہشات اوردنیاکی زیب وزینت میں مبتلارکھتاہےیہاں تک کہ وہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانیوں میں لگ جاتاہے۔پس تم کوئی بھی عمل کرنے سے پہلےنیت پرغورکرو،اگررضائے الٰہی کےلئےہو توکرگزرو اوراگر غَیْرُاللہکےلئےہوتوخودکومشقت میں نہ ڈالوکہ اس میں تمہارےلئےکوئی ثواب نہیں کیونکہ اللہعَزَّ وَجَلَّوہی عمل قبول فرماتاہےجوخالصتاًاس کی رضاکےلئےکیاجائے۔چنانچہ ارشادہوتاہے:اِلَیۡہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ وَالْعَمَلُ الصّٰلِحُ یَرْفَعُہٗ (1)اےاللہعَزَّ وَجَلَّکےبندو!ہرشخص خواہ نیک ہویابداسےرب تعالیٰ سےکوئی نہ کوئی حاجت ضرورہوتی ہے،تماللہعَزَّ وَجَلَّ کاعہد،اس کاحکم اوروصیت ضائع کررہےہوتمہیں ڈرتے رہنا چاہئےتم یہ چاہتےہوکہ ہرگھڑیاللہعَزَّ وَجَلَّکی نعمتیں تم پربرستی رہیں لیکن خودکواس کےحق کی ادائیگی کے لئےتیار نہیں کرتے۔تم اپنےاورربعَزَّ وَجَلَّکےدرمیان معاملےمیں انصاف نہیں کررہے۔اےبندگانِ خدا!اللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرو،اس کی نافرمانی سے بچو،اس کی خفیہ تدبیرسےخوف زدہ رہو،اس کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ خبردار!(کیا)تماللہعَزَّ وَجَلَّکی نعمتوں کابدلہ چکاسکتےہوتوخودکو مشقت میں نہ ڈالو،کیاتم احکامِ الٰہی کی بجا آوری دنیاکےحصول کےلئےکرتےہو؟پس جس کی یہ نیت ہوتوبخدا!وہ تھوڑی چیز پر راضی ہوگیاکیونکہ تم نے آسان کام پردنیاوی عمل سےمددچاہی اوراس میں اپنےرب کی رضانہ چاہی،جو تمہارےلئےباقی رہنے والا تھااسےپھینک دیاحالانکہ اس کاتھوڑاحصہ بھی تمہارےلئےکافی تھا۔
کفروگمراہی اورمحتاجی سےپناہ کی دعا:
(7064)…حضرتِ سیِّدُناامام اوزاعیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُنابلال بن سعدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَدفرماتےہیں:میرےوالدماجدنےحالَتِ نزع میں مجھ سےفرمایا:اےبیٹے!اپنےبیٹوں کوبلاؤ۔میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… ترجمۂ کنز الایمان:اُسی کی طرف چڑھتاہےپاکیزہ کلام اورجونیک کام ہےوہ اُسےبلندکرتاہے۔(پ۲۲،فاطر:۱۰)