Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
30 - 531
اوفٰی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے پوچھا:”کیا حضور نبیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کوئی وصیت فرمائی ہے؟“آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جواب دیا:”نہیں۔“میں نے پوچھا:”تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے وصیت کا حکم کیوں فرمایا؟“حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن اوفٰی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:”آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کتابُاللہ کی وصیت فرمائی۔“
	حضرتِ سیِّدُنا ہزیل بن شرحبیل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں:(اگر وصیت ہوتی تو)امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا صدیْقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہحضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی وصیت کے مطابق تمام معاملات وصی(1) کے سپرد کردیتے کیونکہ وہ تو چاہتے تھے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا کوئی حکم کسی کے لئے بھی پائیں تو اس  کی پوری اطاعت کریں۔
گری پڑی چیزکاحکم:
(6180)…حضرتِ سیِّدُناانس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم راستے میں پڑی ایک کھجور کے پاس سے گزرے تو ارشاد فرمایا:”اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ یہ صدقے کی ہوگی تو میں اسے کھا لیتا۔“(2)حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کھجور کے پاس سے گزرے تو آپ نے اسے کھالیا(3)۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…وصی اس شخص کو کہتے ہیں جس کو وصیت کرنے والا(موصی) اپنی وصیت پوری کرنے کے لئے مقرر کرے۔
(بہار شریعت، حصہ۱۹، ۳/ ۹۹۳)
2…بخاری،کتاب فی اللقطة،باب اذا وجد تمرة فی الطریق،۲/ ۱۲۱،حدیث:۲۴۳۱
3…لقطہ اس مال کوکہتے ہیں جوپڑاہواکہیں مل جائے۔پڑاہوامال کہیں ملااوریہ خیال ہو کہ میں اس کے مالک کوتلاش کرکے دیدوں گاتواٹھالینامستحب ہے اوراگراندیشہ ہوکہ شایدمیں خودہی رکھ لوں اورمالک کوتلاش نہ کروں توچھوڑدینابہتر ہےاوراگرظن غالب ہو کہ مالک کونہ دوں گاتواٹھاناناجائز ہے اوراپنے لئے اٹھاناحرام ہے اوراس صورت میں بمنزلہ غصب کے ہے اوراگریہ ظن غالب ہوکہ میں نہ اٹھاؤں گا تو یہ چیزضائع وہلاک ہوجائے گی تواٹھالینا ضرورہے لیکن اگرنہ اٹھاوے اورضائع ہوجائے تواس پر تاوان نہیں۔لقطہ کواپنےتصرف(استعمال)میں لانے کے لئے اٹھایاپھرنادم ہواکہ مجھے ایساکرنانہ چاہیےاورجہاں سے لایاوہیں رکھ آیاتوبری الذمہ نہ ہوگایعنی اگرضائع ہوگیا توتاوان دینا پڑے گابلکہ اب اس پرلازم ہے کہ مالک کوتلاش کرے اوراس کے حوالہ کردے اوراگرمالک کودینے کے لئے لایا تھاپھرجہاں سے لایاتھارکھ آیا توتاوان…☜