Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
299 - 531
اگرتمہارے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں  تو تم مستقبل کے کاموں  میں مصروف ہوجاؤگے،اگر تم اپنےعلم کےمطابق عمل کروتو اللہ عَزَّ  وَجَلَّکےحقیقی بندےبن جاؤگے۔
دنیاکی محبت بڑےشرمیں مبتلاکردےگی:
(7061)…حضرتِ سیِّدُناضَحّاک بن عبدالرحمٰنعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانبیان کرتےہیں:میں نے حضرتِ سیِّدُنابلال بن سعدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَدکو دورانِ وعظ فرماتےسنا:اےبندگانِ خدا!اگر  تم گناہوں  سے محفوظ رہو،اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی  نافرمانی  نہ کرو،عبادتِ الٰہی میں لگےرہو،اسے اداکرنے میں  خوب کوشش کرتےرہولیکن دنیاکی محبت تمہیں ایک  بڑےشر میں مبتلاکردے گی مگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ چاہے تو اس سے بچاکرتمہیں بخش دے۔
وہ دھوکےمیں نہ رہے:
	مزیدفرماتےہیں:اےرحمٰن عَزَّ  وَجَلَّکےبندو!یادرکھوکہ تم  بہت کم مدت میں لمبی مدت کےلئےعمل  کر رہےہو،فَناہونے والےگھر میں  باقی رہنے والے  گھر کے لئے عمل کررہے ہو،تَھکان اورغم کے گھر میں رہ کر  دائمی گھر کےلئے تیاری کررہےہو،جس نےموت کی تیاری نہیں کی وہ دھوکےمیں نہ رہے۔
تم کس گمان میں ہو؟
(7062)…حضرتِ سیِّدُناضحاک بن عبدالرحمٰنعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانبیان کرتےہیں:میں نےحضرتِ سیِّدُنابلال بن سعدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَدکوفرماتےسنا:اےبندگانِ خدا!کیاتمہیں کسی نےخبردےدی ہےکہ تمہارےکچھ اعمال قبول کرلئےگئےہیں؟یا تمہارےبعض گناہ معاف کردیئےگئے ہیں؟یاتم یہ سمجھتے ہوکہاللہعَزَّ  وَجَلَّنے تمہیں بےکاربنایااورتمہیں اس کی طرف پھرنانہیں؟بخدا!اگراللہعَزَّ  وَجَلَّتمہیں دنیامیں جلدثواب عطافرمادے توتم اس کے فرض کردہ تمام احکام کوچھوٹاسمجھو۔کیاتم دنیاکوفانی سمجھنے کی وجہ سےعبادتِ الٰہی میں رغبت رکھتےہو؟اس جنت کی رغبت وحرص نہیں رکھتےجس کی صفت بیان کرتے ہوئےاللہعَزَّ  وَجَلَّارشادفرماتاہے:
اُکُلُہَا دَآئِمٌ وَّظِلُّہَا ؕ تِلْکَ عُقْبَی الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا ٭ۖ وَّعُقْبَی الْکٰفِرِیۡنَ النَّارُ ﴿۳۵﴾  (پ۱۳،الرعد:۳۵)	
ترجمۂ کنز الایمان:اس کےمیوےہمیشہ اوراس کاسایہ ڈر والوں کاتویہ انجام ہےاورکافروں کاانجام آگ۔