ایک گھرسےدوسرےگھر:
(7055)…حضرتِ سیِّدُناامام اوزاعیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں:میں نےحضرتِ سیِّدُنا بلال بن سعد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَدکودورانِ وعظ فرماتے سنا:اے ہمیشہ اورباقی رہنےوالو!تم فنا ہونےکےلئےپیدانہیں کئے گئے بلکہ ہمیشہ رہنے کے لئے پیدا کئے گئے ہوبس تم ایک گھر سے دوسرے گھر کی طرف مُنْتَقِل کئے جاؤگے۔
ایک روایت میں اتنازائدہے:جس طرح تم باپ کی پیٹھ سے ماں کےرِحْم میں منتقل کئےجاتےہوپھر رحم سے دنیامیں،دنیاسےقبرمیں پھرقبرسےمحشراورمحشرسےہمیشہ کےلئےجنت یادوزخ کی طرف منتقل کئےجاؤگے۔
مومن ومنافق میں فرق:
(57-7056)…حضرتِ سیِّدُناامام اوزاعی اورحضرتِ سیِّدُناضَحّاک بن عبدالرحمٰنرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَابیان کرتےہیں:ہم نےحضرتِ سیِّدُنابلال بن سعدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَدکوفرماتےسناکہ کوئی بندہ(کامل)مومن جیسی کوئی بات کرتاہے لیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّاسےاوراس کےقول کواس وقت تک نہیں چھوڑتا جب تک اس کےعمل کونہیں دیکھ لیتا،اگراس کاقول وعمل مومن کےقول وعمل کےمطابق ہوتواللہ عَزَّ وَجَلَّ اس وقت تک اسےنہیں چھوڑتاجب تک اس کی پرہیزگاری کونہ دیکھ لے،اگراس کاقول،عمل اورپرہیزگاری مومن کےقول،عمل اورپرہیزگاری کےمثل ہوتواسےاس وقت تک نہیں چھوڑتاجب تک یہ نہ دیکھ لےکہ اس کی نیت کیا ہے،پس اگر اس کی نیت دُرست ہوئی توباقی سب کام بھی درست ہوں گے۔بےشک مومن کےقول وعمل میں مُطابَقَت ہوتی ہےجبکہ منافق کےقول وفعل میں تَضادہوتاہے۔
دنیادارکی حالت:
(7058)…حضرتِ سیِّدُناضَحّاک بن عبدالرحمٰنعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانبیان کرتےہیں:میں نے حضرتِ سیِّدُنا بلال بن سعد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَدکوفرماتےسناکہ کسی بندۂ خداسےپوچھاگیا:کیاتم موت کوپسندکرتےہو؟تواس نے جواب دیا:نہیں۔وجہ پوچھی گئی توکہا:’’میں مزیدعمل کرناچاہتاہوں،ممکن ہےکہ آئندہ کچھ اچھےکام کروں۔‘‘
اس نےنہ توموت کوپسندکیااورنہ ہی نیک اعمال بجالایا،رضائےالٰہی والےاعمال کومُؤخّرکرنااس کےنزدیک سب سےپسندیدہ کام بن گیا،اس نےیہ پسندہی نہیں کیاکہ دنیاکاسازوسامان اس سےکبھی دور ہو۔