Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
296 - 531
اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنۡکَرِؕ (پ۲۱،العنکبوت:۴۵)
ترجمۂ کنز الایمان:بےشک نماز منع کرتی ہے بےحیائی اور بُری بات سے۔
اسلام کبھی  مٹ نہیں سکتا:
(7051)…حضرتِ سیِّدُناامام اوزاعیرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہبیان کرتےہیں:میں نے حضرتِ سیِّدُنا بلال بن سعد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَدکوفرماتے سنا:اسلام کے مٹ جانے کی افواہ پھیلانےوالو!اللہ عَزَّ  وَجَلَّکبھی اسلام کو مٹنے نہیں دے گا۔
دل کامُنْتَشِرہوناکیاہے؟
(7052)…حضرتِ سیِّدُنا بلال بن سعد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَد بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا ابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ یوں دعا کیا کرتے تھے:”اَللّٰہُمَّ اِنِّی اَعُوْذُ بِکَ مِنْ تَفْرِقَۃِ الْقَلْب یعنی اےاللہعَزَّ  وَجَلَّ!دل مُنْتَشِر ہونے سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں۔“کسی نے پوچھا:دل کا منتشرہونا کیا ہے؟ارشادفرمایا:اس لالچ میں پڑجانا کہ میرےلئےہروادی میں مال رکھ دیاجائے۔
سیِّدُنابلال عَلَیْہِ الرَّحْمَہ کی دعا:
(7053)…حضرتِ سیِّدُناابن جابر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَافِربیان کرتے ہیں:میں نے حضرتِ سیِّدُنا بلال بن سعد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَدکو یوں دعا کرتے سنا:اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ زَیْغِ الْقُلُوْبِ وَمِنْ تَبِعَاتِ الذُّنُوْبِ وَمِنْ مُرْدِیَاتِ الْاَعْمَالِ وَمُضِلَّاتِ الْفِتَنیعنی اےاللہعَزَّ  وَجَلَّ!میں دلوں کےتیڑھا ہونے، گناہوں میں مبتلا ہونے، اعمال رَد کئے جانے اور فتنوں کے سبب گمراہ ہونے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
اعمال قبول نہ ہونے کے تین اسباب:
(7054)…حضرتِ سیِّدُناسَقْربن رُسْتُم دِمَشْقِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُنابلال بن سعد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَدفرماتےہیں:تین چیزوں کی موجودگی میں اعمال قبول نہیں ہوتے:(۱)…شرک (۲)…کفر اور(۳)…رائے۔ کسی نے پوچھا:رائے سے کیا مراد ہے؟فرمایا:کتابُ اللہ اورسنَّتِ رسول کوچھوڑکراپنی رائے اورعقل کےمطابق عمل کرنا۔