وَلَوْ تَرٰۤی اِذْ فَزِعُوۡا فَلَا فَوْتَ (پ۲۲،سبا:۵۱)
ترجمۂ کنز الایمان: اور کسی طرح تو دیکھے جب وہ گھبراہٹ میں ڈالے جائیں گے پھر بچ کر نہ نکل سکیں گے۔
کی تفسیرکرتےہوئےفرماتےہیں:کفار گھبراتے ہوئےچکر لگائیں گےمگر انہیں بھاگنے اور پناہ کی کوئی جگہ نہ ملے گی۔
ایک موقع پر اس کی تفسیر میں یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی:
یَقُوۡلُ الْاِنۡسٰنُ یَوْمَئِذٍ اَیۡنَ الْمَفَرُّ ﴿ۚ۱۰﴾ (پ۲۹،القیٰمة:۱۰) ترجمۂ کنز الایمان:اس دن آدمی کہے گا کدھر بھاگ کر جاؤں۔
(7047)…حضرتِ سیِّدُناامام اوزاعیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا بلال بن سعد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَد جب کسی آیت کی تفسیر بیان کرتے تو فرماتے:قائل یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کیا ہی عظمت والا ہے۔
بڑےنقصان والا:
(7048)…حضرتِ سیِّدُناامام اوزاعیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں:میں نے حضرتِ سیِّدُنا بلال بن سعد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَدکوفرماتے سنا:اگرتم کسی کوجھگڑالو،فسادی اوراپنی رائےپرخودپسندی کاشکاردیکھوتو(جان لوکہ) وہ بڑے نقصان میں ہے۔
تنہائی میں بھی گناہوں سےبچو:
(7049)…حضرتِ سیِّدُناامام اوزاعیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں:میں نے حضرتِ سیِّدُنا بلال بن سعد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَد کو فرماتے سنا:لوگوں کےسامنےاللہعَزَّ وَجَلَّ کے ولی اورتنہائی میں اس کےنافرمان نہ بنو۔
اگر نماز گناہ سے نہ بچائے تو۔۔۔!
(7050)…حضرتِ سیِّدُناامام اوزاعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں:میں نے حضرتِ سیِّدُنا بلال بن سعد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَدکو فرماتے سنا:”اگر کسی کی نماز اسے گناہ سے نہیں روکتی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضی بڑھ جانے کا سب بنتی ہے۔“بطورِدلیل آپ نےیہ آیتِ مُبارَکہ تلاوت کی: