اقرار نہیں کرتے؟لوگوں نے کہا:کیوں نہیں۔پھر آپ نے یوں دعا کی:اےاللہعَزَّ وَجَلَّ!تو فرماتا ہےکہ نیکی والوں پرمُواخَذہ نہیں، ہم سب تیری بارگاہ میں برائی کا اقرار کرتے ہیں، ہمیں بخش دے اور ہم پر بارش برسا۔تو بارش برسنےلگی۔
(7038)…حضرتِ سیِّدُناامام اوزاعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں:میں نے حضرتِ سیِّدُنا بلال بن سعد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَدکوفرماتے سنا:لوگو!اُن کےبارےمیںاللہ عَزَّ وَجَلَّسےڈروجن کااُس کےسواکوئی مددگار نہیں۔
(7039)…حضرتِ سیِّدُناامام اوزاعیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا بلال بن سعد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَدفرماتےہیں:بےشکاللہ عَزَّ وَجَلَّگناہوں کوبخش دیتاہےلیکن نامَۂ اعمال سے اس وقت مٹائےگا جب بروزِقیامت گناہ گار کو اس پر مطلع فرمادےگا اگرچہ اس نے توبہ کرلی ہو۔
اللہبندےکےگمان کے مطابق فیصلہ فرماتا ہے:
(7040)…حضرتِ سیِّدُنا امام اوزاعیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا بلال بن سعد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَدفرماتےہیں:اللہ عَزَّ وَجَلَّ دو شخصوں کو جہنم سے نکالنے کا حکم فرمائے گا تو انہیں زنجیروں اور بیڑیوں کےساتھ بارگاہِ الٰہی میں پیش کیاجائےگا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّارشادفرمائےگا:”تم نےاپنےٹھکانے کو کیسا پایا؟“وہ عرض کریں گے:بُرا ٹھکانااوربُرا مقام۔“ارشادفرمائےگا:”یہ تمہارےکرتوتوں کابدلہ ہے، میں تو ذرہ بھر ظلم نہیں کرتا۔“دوبارہ انہیں جہنم میں ڈالنے کا حکم فرمائےگا۔ایک زنجیروں اور بیڑیوں سمیت جلدی جلدی جائےگا جبکہ دوسرے کو لےجایا جائے گا تووہ مُڑمڑ کر دیکھےگا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان دونوں کوواپس لانے کا حکم فرمائے گا اور پہلے سےارشادفرمائے گا:”تواس قدرتیزی سےکیوں گیاحالانکہ تجھےجہنم کا مستحق قرار دیا گیا؟“وہ عرض کرے گا:اے میرے رب عَزَّ وَجَلَّ!میں تیری نافرمانی کا وبال دیکھ چکا، دوبارہ کبھی تیری نافرمانی نہیں کروں گا۔“دوسرے سےارشادفرمائےگا:”تو مُڑمڑ کر کیوں دیکھ رہا تھا؟“وہ عرض کرے گا:اے رب! میراتیرےبارےمیں یہ گمان نہیں تھا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّارشادفرمائےگا:تَوکیاگمان تھا؟عرض کرے گا:میرا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
……بعد نمازخطبہ اوربعدخطبہ دعامانگنا،چادرالٹی کرنایہ تینوں طریقےحضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمسے ثابت ہیں،یہ نماز تین دن تک پڑھی جائے۔)مراٰۃ المناجیح،۲/ ۳۹۱)