(7032)…حضرتِ سیِّدُنا امام اوزاعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا بلال بن سعدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَد کو”غَسّاق“کےمتعلق فرماتے سنا:اگر اس کا ایک قطرہ زمین پر ٹپکادیا جائے تو وہ ساری زمین میں بدبو پیداکردے۔
(34-7033)…حضرتِ سیِّدُنا امام اوزاعی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ بیان کرتے ہیں:میں نےحضرتِ سیِّدُنا بلال بن سعد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَدکوفرماتے سنا:تم میں دنیاسےکنارہ کش رہنےوالےدرحقیقت اس میں رغبت رکھتے اورعبادت میں کوشش کرنے والےکوتاہی برتتے ہیں، تمہارے عُلَما میں جہالت پائی جاتی ہےاورجُہَلادھوکے کاشکارہیں۔
(7035)…حضرتِ سیِّدُناامام اوزاعیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں:میں نے حضرتِ سیِّدُنا بلال بن سعد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَدکوفرماتے سنا:تم سے ملاقات کرتے وقت جوبھائی تمہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں تمہارا حصہ یاد دلائے وہ تمہارے اس بھائی سے بہتر ہے جو ملاقات کے وقت تمہارے ہاتھ میں دینار رکھے۔
مسلمان مسلمان کاآئینہ ہے:
(7036)…حضرتِ سیِّدُناعبدالرحمٰن بن یزیدبن جابرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَافِربیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا بلال بن سعد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَد نےایک مرتبہ فرمایا:مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ مسلمان مسلمان کا آئینہ ہےتوکیامیرے کسی معاملےمیں تمہیں شک ہوسکتاہے؟
بارش برسنےلگی:
(7037)…حضرتِ سیِّدُناامام اوزاعیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتےہیں کہ ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا بلال بن سعد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَد لوگوں کے ساتھ بارش کی دعا کے لئے نکلے(1)،آپ نےفرمایا:لوگو! کیا تم برائی کا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… کے ذریعہ نیچے گرتا ہوگا اسے نیچے کے طبقے والے دوزخی پئیں گے، وہاں نیچے طبقے والے دوزخیوں کا عذاب بہت سخت ہوگا۔ خیال رہے غَسّاق وغیرہ صرف کافر دوزخیوں کو پلایا جائے گا کیونکہ مسلمان کے منہ میں اللہ رسول کا نام حضور کا کلمہ پڑھاجاتا ہے۔(مراٰۃ المناجیح،۷/ ۵۴۳،ملتقطا)
…استسقاء کےمعنی ہیں بارش یا سیرابی مانگنا۔شریعت میں دعائے بارش کو استسقاءکہتے ہیں جوضرورت کے وقت کی جائے۔ استسقاءکی تین صورتیں ہیں:صرف دعائے بارش کرنا، نوافل پڑھ کر دعاکرنا،باقاعدہ جنگل میں جاکرنماز باجماعت پڑھنا …☜