Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
280 - 531
حضرت ابوہُرَیْرَہ،حضرت اِبْنِ عُمَر،حضرت اِبْنِ عَمْرو،حضرت امیرمُعاوِیہ،حضرتعبداللہبن بُسْر،حضرت ثَوبان، حضرت وَاثِلہ بن اسقع اورحضرت عُتْبَہ بن عُبَیْدسُلَمِی عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسےاحادیث روایت کرتےہیں۔آپ کی زیادہ تَررِوایات تابعیْنِ عِظام میں حضرتجُبَیْربن نُفَیْر،حضرت عبدالرحمٰن بن غَنْم، حضرت ابوبَحرِیَّہ،حضرت کَثیر بن مُرَّہ،حضرت عبدالرحمٰن بن عَمْروسُلَمِی،حضرت عَمْروبن اَسوداورحضرت رَبِیعہ جُرَشِیرَحِمَہُمُ اللہُسے ہیں۔
اپنی حاجتیں چھپاؤ:
(6988)…حضرتِ سیِّدُنامُعاذبن جَبلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسےمروی ہےکہ اللہعَزَّ  وَجَلَّکےمحبوب،دانائے غیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:اِسْتَعِیْنُوْاعَلٰی حَـوَائِجِکُمْ بِالْکِتْمَانِ فَاِنَّ کُلَّ ذِیْ نِعْمَۃٍ مَّحْسُوْد یعنی اپنی حاجتیں چھپاکران پرمددچاہو(1)کیونکہ ہرنعمت والےسے حسدکیا جاتا ہے۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…حضرتِ سیِّدُنا علامہ محمدعبدالرؤف مناویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیاس کامعنیٰ بیان کرتے ہوئےفرماتےہیں:اپنی حاجتیں لوگوں سے چھپاؤاورانہیں پوراکرنے کے لئے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سےمددطلب کرو۔ حاجتیں چھپانے کی علت حدیْثِ پاک کے اگلے جز میں بیان کی گئی”کیونکہ ہرنعمت والے سے حسد کیا جاتاہے“یعنی اگرتم اپنی حاجتیں لوگوں پر ظاہرکرو گے تو وہ تم سےحسد کریں گے اور تمہاری برابری کرنے کی کوشش کریں گے۔اس حدیث کامقصدیہ ہے کہ نعمت مکمل حاصل ہونے کے بعد بیان کی جائے تاکہ لوگ حسد سےمحفوظ رہیں۔(فیض القدیر، ۱/ ۶۳۰، تحت الحدیث:۹۸۵)
	حضرتِ سیِّدُناابوبکرمحمدبن ابواسحاق کَلابَاذیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیاس حدیْثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں:اس کا ایک معنیٰ یہ ہوسکتا ہے کہ اپنی حاجتیں چھپاؤ اور لوگوں میں ان کا چرچا نہ کرو کیونکہ اگر تم لوگوں میں بیان کروگے تو اس کی وجہ سے بعض لوگ تم سے حسد کریں گے پھر تمہارے لئے اس نعمت کا پورا ہونا بھی ضروری نہیں ہوگا کیونکہ جب لوگ نعمت کی وجہ سے تم سے حسد کریں گے تو اسے پورا ہونے سے روک دیا جائے گا یا لوگ نعمت کی وجہ سے تم سے اس طرح حسد کریں گے کہ تم حاجت مند نہ ہونے کے باوجود اپنی حاجت ان پر ظاہر کروگے تو وہ تمہاری تکلیف پر خوش ہوں گے۔ پس حاجت پوری ہونےاورکشادگی کی امید اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے رکھو کیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تمہاری حاجتیں پوری کرنے کو پسند فرماتا ہے جب تم اسی کی طرف جھکے رہو، اس کے فیصلے پر راضی رہو اور اپنی حاجتیں اور ضرورتیں چھپانےپرصبرکرو۔حدیِثِ پاک کا ایک معنیٰ یہ بھی ہوسکتا ہےکہ اپنی حاجتیں چھپانے کے ذریعےاللہ عَزَّ  وَجَلَّ سےان کےپورا ہونےپرمددطلب کروجیساکہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:”اسْتَعِیۡنُوۡا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ (پ۲، البقرة:۱۵۳)“یعنی صَبراورنماز کے ذریعے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے مدد طلب کرو۔
(بحرالفوائدالمشھوربمعانی الاخبار،۱/ ۸۹دار الکتب العلميةبیروت)
2…معجم کبیر،۲۰/ ۹۴،حدیث:۱۸۳