Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
28 - 531
 میں زبان سے کچھ کہہ گیا مگر میرا دل ان سے محبت کرتا ہے۔“
نماز کی محبت:
(6171)…حضرتِ سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کہتے ہیں:ہمیں حضرتِ سیِّدُنا طلحہ بن مصرف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پڑوسی نے بتایا کہ آپ بیمار ہیں۔ ہم عیادت کے لئے گئے تو حضرتِ سیِّدُنا زُبید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ان سے کہا:”اُٹھئے! نماز پڑھ لیجئے، مجھے معلوم ہے کہ آپ نماز سے محبت کرتے  ہیں۔“یہ سن کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنماز کے لئےکھڑے ہوگئے۔
جائز اشیاء میں بھی احتیاط:
(6172)…حضرتِ سیِّدُنا مُخلَد بن خِداش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں:مجھے بتایا گیا کہ حضرتِ سیِّدُنا طلحہ بن مصرف اور حضرتِ سیِّدُنا سلمہ بن کُہَیل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا کھانا کھانے بیٹھے تو انہیں نبیذ(1) پیش کی گئی۔ حضرتِ سیِّدُنا سلمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے نبیذ پی اور اپنی دائیں جانب حضرتِ سیِّدُنا طلحہ بن مُصرِّف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی طرف بڑھا دی۔ انہوں نے سونگھی پھر اپنی دائیں جانب بیٹھے شخص کو دےدی۔ حضرتِ سیِّدُنا سلمہ  بن کُہَیل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے پوچھا:”آپ نے نبیذ کیوں نہیں پی؟“آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”مجھے بدہضمی کا خوف تھا۔“حضرتِ سیِّدُنا سلمہ بن کہیل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے کہا:”دنیا کی بدہضمی کا خوف تھا یا آخرت کی۔“
(6173)…حضرتِ سیِّدُناحریش بن سُلیم(2)رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا طلحہ بن مصرف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ محلے کی مسجد میں داخل ہوئے، مسجد میں عجیب خوشبو آرہی تھی (جو خلل کا باعث بن رہی تھی)۔ اس پر آپ نے فرمایا:”ہماری مسجد میں شراب کس نے چھڑکی ہے۔“
(6174)…حضرتِ سیِّدُنا ہارون بن مُثَنّٰی حنفی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی قبیلہ کندہ کےایک شخص کے حوالے سے 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…نبیذ وہ مشروب جس میں کھجوریں ڈالی جائیں جس سے پانی میٹھا ہوجائے مگر (اعضا کو) سست کرنے والا اور نشہ آور نہ ہو، نشہ آور ہو تو اس کا پینا حرام ہے۔(الفتاوی الخانیہ، ۱/ ۹)
2…متن میں اس مقام پر ”حریش بن مسلم“مذکور ہے جبکہ کتب اعلام میں ”حریش بن سلیم“ کا ذکر ملتا ہے جو طلحہ بن مصرف سے روایت کرتے ہیں لہٰذا یہی لکھ دیا گیا ہے۔(علمیہ)