َ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامفرماتےہیں:اللہ عَزَّ وَجَلَّارشادفرماتاہے:میرےذکرمیں مشغول رہنےوالوں کومیں ان لوگوں سے بہتر عطا کرتا ہوں جو مجھ سے سوال کرتے ہیں۔
حق کی مخالفت مَذمَّت کاباعث ہے:
(6980)…حضرتِ سیِّدُنابَحِیْربن سَعید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْدبیان کرتےہیں:میں نےحضرتِ سیِّدُنا خالد بن مَعدان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنکوفرماتے سنا:جو حق کی مخالفت کرکےتعریف کاخواہشمند ہو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس تعریف کو مَذمَّت کی صورت میں اس پر لوٹاتا ہے اورجو حق کی موافقت کرتے ہوئے ملامت برداشت کرےاللہ عَزَّ وَجَلَّ اس ملامت کو اس کی تعریف کا ذریعہ بنادیتاہے۔
اپریل کی پہلی رات:
(6981)… حضرتِ سیِّدُناخالدبن مَعدانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتےہیں:اللہ عَزَّ وَجَلَّنیسان(اپریل) کی پہلی رات کھیتوں پرتجلی فرماکرفرماتاہے:ضرورتیرے آخر کو پہلے کے ساتھ ملایا جائے گا۔
آگ اور برف کے جسم والا فرشتہ:
(6982)…حضرتِ سیِّدَتُناعبدَہ بنْتِ خالدبن مَعدانرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَابیان کرتی ہیں کہ میرے والد ماجد فرماتےہیں:آسمان میں ایک فرشتہ ہےجس کاآدھاجسم آگ کااورآدھابرف کاہے۔وہ کہتاہے:’’سُبْحٰنَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ کَمَااَلَّفْتَ بَیْنَ ہَذِہِ النَّارِوَبَیْنَ ہَذَاالثَّلْجِ فَاَلِّفْ بَیْنَ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنیعنی اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ! تیری ذات پاک ہے،توہی تعریف کےلائق ہے،جس طرح تونےاس آگ اور برف میں اُنسیت پیدا فرمائی اسی طرح مسلمانوں کے دلوں میں اُلفت پیدا فرما۔‘‘یہ فرشتہ یہی تسبیح پڑھتا رہتا ہے۔
(6983)…حضرتِ سیِّدُنا بَحِیْر بن سعیدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْدبیان کرتےہیں:میں نےحضرتِ سیِّدُنا خالد بن مَعدان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنکوفرماتے سنا:اَسلاف اسلامی ملک کی سرحد پر نِگہبانی کوہرچیزپرترجیح دیتےتھے۔
” وَلَدَیۡنَا مَزِیۡدٌ “کی تفسیر:
(6984)…حضرتِ سیِّدُناخالدبن مَعدانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن(اس آیتِ طیبہ”وَلَدَیۡنَا مَزِیۡدٌ پ۲۶،قٓ:۳۵،ترجمۂ کنز الایمان:اور ہمارے پاس اس سےبھی زیادہ ہے۔“کی تفسیر میں) حضرتِ سیِّدُنا کَثیر بن مُرَّہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا قول