دو آنکھیں چہرے پر ہوتی ہیں جن کے ذریعے دنیاوی معاملات دیکھتا ہے جبکہ دو آنکھیں دل میں ہوتی ہیں جن کے ذریعے اُخروی معاملات کے نظارے ہوتے ہیں۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ جب کسی کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے دل کی دونوں آنکھیں کھول دیتا ہے جن کے ذریعے وہ ان چیزوں کو دیکھ لیتا ہے جن کے پوشیدہ رکھنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔پس وہ اِن کے ذریعے اُن چیزوں کو دیکھتا ہے جن کا غیب سے اُس کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے تووہ غیب کے ذریعے غیب پر ایمان لاتا ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ جب کسی کے ساتھ بھلائی کا اراداہ نہیں فرماتا تو اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔ پھر یہ آیت مبارکہ تلاوت کی:
اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا(۲۴) (پ۲۶،محمد:۲۴) ترجمۂ کنز الایمان:یا بعضے دلوں پر اُن کے قفل لگے ہیں۔
شیطان کوخودسےدورکرنےکاوظیفہ:
(6975)…حضرتِ سیِّدُناخالدبن مَعدانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں:ہرانسان کےساتھ ایک شیطان ہوتا ہےجواس کی پیٹھ پرسوارہوتاہے،اپنی گردن انسان کی گردن سےمِلائے،اپنا منہ اس کےدل پر لگائے ہوئے ہوتا ہے۔ایک روایت میں اتنازائدہےکہ انسان جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر کرتا ہے تو شیطان پیچھے ہٹ جاتا ہے اور جب غافل ہوتا ہے تووسوسہ ڈالتا ہے۔
(6976)…حضرتِ سیِّدَتُنااُمِّعبداللہبنْتِ خالدبن مَعدانرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَابیان کرتی ہیں کہ میرے والدِ ماجدفرماتےہیں:جودعاکی قبولیت چاہےوہ سجدےکی حالت میں دعاکرےاورہتھیلیاں آسمان کی جانب کرلے۔
(6977)…حضرتِ سیِّدَتُنااُمِّعبداللہبنْتِ خالدبن مَعدانرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَابیان کرتی ہیں کہ میرے والدمحترم فرماتے ہیں:دل مٹی سے بنایا گیا ہے، بےشک یہ سردیوں میں نرم پڑجاتا ہے۔
(6978)… حضرتِ سیِّدُناخالدبن مَعدان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنبیان کرتے ہیں:اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے:”میں کسی دانا شخص کی بات قبول نہیں کرتا بلکہ اس کا ارادہ اور عمل قبول کرتا ہوں، اگراس کا ارادہ اور عمل محبت و رضا کے لئے ہو تو اسے اپنی حمد اور تعظیم شمار کرتا ہوں اگرچہ وہ زبان سے کچھ نہ کہے۔“
ذکر میں مشغول رہنے والوں پرفضْلِ الٰہی:
(6979)…حضرتِ سیِّدُناخالدبن مَعدانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناداؤدعَلٰی نَبِیِّنَاو