نکالےگا حتّٰی کہ تم اپنے دین کی طرف لوٹ آؤ۔“(1)
(6953)…حضرتِ سیِّدُنااِبْنِ عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَابیان کرتےہیں کہ شہزادیِ رسول،زوجَۂ عثمانِ غنی حضرتِ سیِّدَتُنارُقَیَّہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکےوصال پرجب حضورنبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسےتعزیت(2) کی گئی توآپ نےارشادفرمایا:تمام تعریفیںاللہ عَزَّ وَجَلَّکےلئےہیں،بیٹیوں کو(انتقال کےبعد)دفن کرناوالدین کےلئے عزت وشَرف کاباعث بننےوالی خصلتوں میں سےہے۔(3)
تین آنکھوں پر جہنم کی آگ حرام ہے:
(6954)…حضرتِ سیِّدُناابن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتےہیں:میں نےرسولِ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوارشادفرماتےسناکہ تین آنکھوں پرجہنم کی آگ حرام ہے:(۱) …وہ آنکھ جو خوفِ خداسےروئے (۲)…وہ آنکھ جواللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حرام کردہ چیزوں کو نہ دیکھے اور (۳)…وہ آنکھ جوراہِ خدا میں پہرہ دے۔(4)
رسولِ خدا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے چار پسندیدہ کام:
(6955)…اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَابیان کرتی ہیں کہ میرےسرتاج، صاحِبِ معراج صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو چار کام سب سے زیادہ پسند تھے،دو کا تعلق بدنی مجاہدے سےہے اور دو کامالی مجاہدےسے،بدنی مجاہدےوالےاعمال نمازاورروزہ ہیں جبکہ مالی مجاہدےوالےاعمال جہاداورصدقہ ہیں۔(5)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…ابو داود،کتاب الاجارة،باب فی النھی عن العينة،۳/ ۳۷۸،حدیث:۳۴۶۲
2…تعزیت کاطریقہ:تعزیت میں یہ کہے،اللہ تعالیٰ میّت کی مغفرت فرمائے اور اس کو اپنی رحمت میں ڈھانکے اور تم کو صبر روزی کرے اور اس مصیبت پر ثواب عطا فرمائے۔ نبیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم نے ان لفظوں سے تعزیت فرمائی:لِلّٰہِ مَااَخَذَ وَ اَعْطٰی وَکُلُّ شَیْ ءٍ عِنْدَہٗ بِاَجَلٍ مُّسَمًّی.خداہی کاہےجواُس نےلیادیااوراُس کےنزدیک ہرچیزایک میعادمقررکےساتھ ہے۔
(بہارشریعت،حصہ۴، ۱/ ۸۵۲)
نوٹ:تعزیت کےتفصیلی احکام جاننےکےلئے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ1250صفحات پرمشتمل کتاب ’’بہارشریعت،جلد1،حصہ4 ،صفحہ852تا854‘‘ کامطالعہ کیجئے۔
3…معجم کبیر،۱۱/ ۳۹۰،حدیث:۱۲۰۳۵
4…شرح السنة،کتاب الرقاق،باب الخوف من اللّٰہ عزوجل،۷/ ۳۷۰،حدیث:۴۰۶۴،بھز بن حکیم عن ابیہ عن جدہ
5…مسندشامیین،عطاء عن ابی عمران الجونی،۳/ ۳۵۹،حدیث:۲۴۶۲