Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
271 - 531
صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّممجھ سےٹیک لگالیں۔توآپ نےارشادفرمایا:نہیں! یہی اس کے زیادہ حق دار ہیں، اے حذیفہ! تم قریب آؤ۔میں قریب ہوا تو ارشاد فرمایا:”اےحذیفہ!جس کا روزہ یا صدقہ رضائےالٰہی کے لئے ہواللہ عَزَّ  وَجَلَّ اسےجنت میں داخل فرمائےگا۔“میں نےعرض کی:اسےبیان کروں یا راز رکھوں۔ارشاد فرمایا:بیان کرو۔ (1)
ترکِ جہاد پر ذِلَّت ورُسوائی:
(6952)…حضرتِ سیِّدُناعبداللہبن عُمَررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسےمروی ہےکہ نورکےپیکر،تمام نبیوں کے سرورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:جب تم بَیْع عِیْنَہ(2)کروگے،گائےکی دُمیں پکڑے کاشتکاری میں پڑجاؤگےاورجہادچھوڑ بیٹھوگےتواللہ عَزَّ  وَجَلَّتم پرذِلَّت ورُسوائی مُسَلَّط فرمادےگااوراس سےتمہیں نہیں 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مسندشامیین،عطاء عن  نعیم بن ابی ھند،۳/ ۳۵۰،حدیث:۲۴۴۹
2…دعوتِ اسلامی کےاشاعتی ادارےمکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ1182صفحات پرمشتمل کتاب بہارشریعت،جلد2،حصہ11، صفحہ779پرصَدْرُالشَّرِیْعَہ،بَدْرُالطَّرِیْقَہحضرت علامہ مولانامفتی محمدامجدعلی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:بَـیْع عِیْنَہ کی صورت یہ ہےایک شخص نے دوسرے سے مثلاً دس روپے قرض مانگے اس نے کہا:میں قرض نہیں دوں گا،یہ البتہ کرسکتا ہوں کہ یہ چیز تمہارے ہاتھ بارہ روپے میں بیچتا ہوں، اگر تم چاہو خریدلو اسے بازار میں دس روپے کو بیع کردینا(بیچ دینا)تمہیں دس روپے مل جائیں گے اور کام چل جائےگا اور اسی صورت سے بیع ہوئی۔ بائع(بیچنے والے) نے زیادہ نفع حاصل کرنے اور سود سے بچنے کا یہ حیلہ نکالا کہ دس کی چیز بارہ میں بیع کردی اس کا کام چل گیا اور خاطرخواہ اس کو نفع مل گیا۔ بعض لوگوں نے اس کا یہ طریقہ بتایا ہے کہ تیسرے شخص کو اپنی بیع میں شامل کریں یعنی مُقْرِض(قرض دینے والے) نے قرض دار کے ہاتھ اس کو بارہ میں بیچا اور قبضہ دےدیا پھر قرض دار نے ثالث کے ہاتھ دس روپے میں بیچ کر قبضہ دےدیا اس نے مُقْرِض کے ہاتھ دس روپے میں بیچا اور قبضہ دےدیا اور دس روپے ثَمن کے مُقْرِض سے وصول کرکے قرض دار کو دےدیئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ قرض مانگنے والے کو دس روپے وصول ہوگئے مگر بارہ دینے پڑیں گے کیونکہ وہ چیز بارہ میں خریدی ہے۔
	سیِّدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن”بَیْع عِیْنَہ“کے متعلق فرماتےہیں:بَـیْع عِیْـنَہ کو ہمارے اَئِمَّۂ کرام نے کیا ٹھہرایا ہے، کیا ممنوع ہے، ناجائز، حرام، مکروہِ تحریمی؟حاشا ہرگز نہیں، یہ محض غلط وباطل ہے بلکہ(بَـیْع عِیْنَہ)جائز، حلال، روا، درست۔ غایت درجہ اس میں اختلاف ہوا کہ خلافِ اولیٰ بھی ہے یا نہیں، ہمارے امام اعظم(عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم)بلاکراہت مانتے ہیں، امام ابویوسف(رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ) خود ثواب ومستحب جانتے ہیں،امام محمد(عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الصَّمَد) احتیاط کے لئے صرف خلاف اولیٰ ٹھہراتے۔ (فتاوی رضویہ، ۱۷/ ۵۴۷)
	حضرتِ سیِّدُناامام ابن ہمامرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں:حدیث میں ممانعت سےمرادخلافِ اولیٰ ہے۔(فتح القدیر،۷/ ۲۱۲)