بلکہ”وُسعت“(1) (یعنی رحمت)کہا کرو۔
اولاد فرمانبردار کیسے بنے؟
(6167)…حضرتِ سیِّدُنا مالک بن مِغْوَل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا ابومعشَر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرتِ سیِّدُنا طلحہ بن مُصرِّف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے اپنے بیٹے کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا: بیٹے کے لئے اس آیت سے دعا کرو:
رَبِّ اَوْزِعْنِیۡۤ اَنْ اَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِیۡۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰی وٰلِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صٰلِحًا تَرْضٰہُ وَ اَصْلِحْ لِیۡ فِیۡ ذُرِّیَّتِیۡ ۚؕ (پ۲۶،الاحقاف:۱۵) ترجمۂ کنز الایمان: اے میرے رب میرے دل میں ڈال کہ میں تیری نعمت کا شکر کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کی اور میں وہ کام کروں جو تجھے پسند آئے اور میرے لئے میری اولاد میں صلاح (نیکی)رکھ۔
(6168)…حضرتِ سیِّدُنا مالک بن مغول رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرتِ سیِّدُنا ابوالحصین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اور حضرتِ سیِّدُنا طلحہ بن مُصرِّف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ ان میں سے کسی نے کہا:”میں نے ایسے بزرگوں کی صحبت اختیار کی ہے کہ اگر آپ انہیں دیکھ لیتے تو آپ کا کلیجا جل جاتا۔“دوسرے نے کہا:”ہم نے ایسے بزرگوں کی صحبت اختیار کی ہے گویا ان کے مقابلے میں ہماری حیثیت چوروں کی سی ہے۔“
ایک مسلمان اور بےشمار شیطان:
(6169)…حضرتِ سیِّدُنا ابوسنان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا طلحہ بن مُصرِّفرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”ابلیس مسلمان کو بہکانے کے لئے قبیلہ رَبیعہ اور مُضَر کے لوگوں سے بھی زیادہ شیاطین اکھٹے کرتا ہے۔“
(6170)…حضرتِ سیِّدُنا موسٰی جُہَنی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیبیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا طلحہ بن مصرف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو فرماتے سنا:”میں امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بارے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مرادیہ ہے کہ فروعی مسائل میں مجتہدین کااختلاف رحمت ہےاوروُسعت کاباعث ہے۔
(فیض القدیر،۱/ ۲۷۱،تحت الحدیث:۲۸۸،ملخصًا)